کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یومِ عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 9602
٩٦٠٢ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن الشعبي عن محمد بن صيفي قال: قال لنا رسول اللَّه ﷺ يوم عاشوراء: "أمنكم أحد طعم اليوم؟ " فقلنا: منا من طعم ومنا من لم يطعم قال: فقال: "أتموا بقية يومكم من كان طعم ومن لم يطعم وأرسلوا الى أهل العروض فليتموا بقية يومهم". يعني أهل العروض من حول المدينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن صیفی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عاشوراء کے دن فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے آج کچھ نہ کھایا ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کچھ کھایا ہے اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے باقی دن کو پورا کرو، جنہوں نے کھایا ہے وہ بھی اور جنہوں نے نہیں کھایا وہ بھی۔ یہ پیغام مدینہ کے کناروں میں رہنے والوں کو بھی بھجوا دو کہ باقی دن کو پورا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9602
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٩٤٥١) وابن ماجه (١٧٣٥) والنسائي ٤/ ١٩٢ وابن خزيمة (٢٠٩١) وابن حبان (٣٦١٧) والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٧٧) وابن قانع ٣/ ٢٠ والطبراني ١٩/ (٥٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9602، ترقيم محمد عوامة 9443)
حدیث نمبر: 9603
٩٦٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن أبي موسى قال: يوم عاشوراء يوم تعظمه اليهود تتخذه عيدا فقال رسول اللَّه ﷺ: "صوموه (أنتم) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ یہود یوم عاشوراء کا احترام کیا کرتے تھے، انہوں نے اسے عید کا دن قرار دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9603
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٠٥) ومسلم (١١٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9603، ترقيم محمد عوامة 9444)
حدیث نمبر: 9604
٩٦٠٤ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه بن الزبير الأسدي عن شريك (عن مجزأة بن ⦗١٩⦘ زاهر) (١) عن أبيه قال: أمر رسول اللَّه ﷺ بصوم عاشوراء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاہر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9604
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ زاهر بن الأسود صحابي، أخرجه الطبراني في الأوسط (٥٨٩) والكبير (٥٣١٢)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣٣٧، وابن قانع ١/ ٢٣٧، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ٤٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ٢٨٩، وعلقه البخاري في التاريخ ٣/ ٤٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9604، ترقيم محمد عوامة 9445)
حدیث نمبر: 9605
٩٦٠٥ - حدثنا حفص بن غياث عن الهجري عن أبي عياض عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (صوموا) (١) (يوم) (٢) عاشوراء يوم كانت تصومه الأنبياء فصوموه أنتم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوم عاشورا کو انبیاء کرام روزہ رکھا کرتے تھے، اس لئے تم بھی روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9605
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الهجري، أخرجه البزار (١/ ٤٩٠/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9605، ترقيم محمد عوامة 9446)
حدیث نمبر: 9606
٩٦٠٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: (حدثنا) (١) (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن أهل الجاهلية كانوا يصومون يوم عاشوراء، وإن رسول اللَّه ﷺ صامه والمسلمون قبل أن يفترض رمضان، فلما افترض رمضان قال رسول اللَّه ﷺ: "عاشوراء يوم من أيام اللَّه فمن شاء صامه ومن شاء تركه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں نے رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا دن اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9606
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٠٠) ومسلم (١١٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9606، ترقيم محمد عوامة 9447)
حدیث نمبر: 9607
٩٦٠٧ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: كان عاشوراء يومًا تصومه قريش في الجاهلية، فلما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة صامه وأمر بصيامه، فلما فرض رمضان كان (١) هو الفريضة وترك عاشوراء، فمن شاء ⦗٢٠⦘ صامه ومن شاء تركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور عاشوراء کے روزے کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔ اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9607
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيحع، أخرجه البخاري (٢٠٠٢) ومسلم (١١٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9607، ترقيم محمد عوامة 9448)
حدیث نمبر: 9608
٩٦٠٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا شيبان عن أشعث بن أبي الشعثاء عن جعفر بن أبي ثور عن جابر بن سمرة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يأمرنا بصيام عاشوراء ويحثنا عليه أو يتعاهدنا عنده فلما فرض رمضان لم يأمرنا ولم (ينهنا) (١) (عنه) (٢) ولم يتعاهدنا عنده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عاشوراء کے روزے کا حکم دیتے، اس کی ترغیب دیتے اور اس کا اہتمام کرایا کرتے تھے۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے نہ اس کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا اور نہ اس کا اہتمام کرایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9608
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ جعفر ثقة، أخرجه مسلم (١١٢٨) وأحمد (٢٥٩٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9608، ترقيم محمد عوامة 9449)
حدیث نمبر: 9609
٩٦٠٩ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة واليهود يصومون يوم عاشوراء فسألهم عن ذلك فقالوا: (هذا) (١) اليوم الذي (أظهر) (٢) (اللَّه) (٣) فيه موسى على فرعون فقال النبي ﷺ: "لأنتم أولى بموسى منهم فصوموه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس دن موسیٰ کو فرعون کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ کی یاد منانے کے زیادہ حقدار تم ہو اس لئے اس دن روزہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9609
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٧٣٧) ومسلم (١١٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9609، ترقيم محمد عوامة 9450)
حدیث نمبر: 9610
٩٦١٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: دخل الأشعث بن قيس على عبد اللَّه وهو يتغدى قال: يا أبا محمد ادن إلى (غدائي) (١) فقال: أو ليس اليوم يوم عاشوراء؟ فقال: وهل تدري ما يوم عاشوراء؟ (فقال) (٢): وما هو؟ قال: إنما هو يوم كان رسول اللَّه ﷺ يصومه قبل أن (ينزل) ⦗٢١⦘ (عليه) (٣) شهر (رمضان) (٤) فلما نزل شهر رمضان (تركه) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے اشعث بن قیس کو بھی کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشوراء کا دن نہیں ؟ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو عاشوراء کا دن کیا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے، جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے اس دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9610
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٥٠٣) ومسلم (١١٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9610، ترقيم محمد عوامة 9451)
حدیث نمبر: 9611
٩٦١١ - حدثنا ابن عيينة عن أبي إسحاق عن الأسود قال: ما رأيت أحدًا كان آمر بصيام يوم عاشوراء من علي بن أبي طالب وأبي موسى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب یا حضرت ابو موسیٰ میں سے کسی کو عاشوراء کے روزے کا حکم دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9611
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع، أخرجه عبد الرزاق (٧٨٣٦) والطيالسي (١٢١٢) والبغوي في الجعديات (٢٥٣٦) والبيهقي ٤/ ٢٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9611، ترقيم محمد عوامة 9452)
حدیث نمبر: 9612
٩٦١٢ - [حدثنا وكيع عن مسعر وعلي بن صالح عن أبي إسحاق عن الأسود قال: ما (رأيت) (١) أحدا أمر بصوم يوم عاشوراء من علي بن أبي طالب وأبي موسى] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب یا حضرت ابو موسیٰ میں سے کسی کو عاشوراء کے روزے کا حکم دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9612
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر الذي قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9612، ترقيم محمد عوامة 9453)
حدیث نمبر: 9613
٩٦١٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي بن (أبي طالب) (١) أنه كان يأمر (بصوم) (٢) يوم عاشوراء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9613
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الحارث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9613، ترقيم محمد عوامة 9454)
حدیث نمبر: 9614
٩٦١٤ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج (٢) قال: أخبرني عبد الملك عن أبي (بكر) (٣) بن عبد الرحمن بن الحارث أن عمر أرسل إلى عبد الرحمن بن ⦗٢٢⦘ الحارث مساء ليلة عاشوراء أن تسحر وأصبح صائمًا فأصبح عبد الرحمن صائمًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے عبدا لرحمن بن حارث کو عاشوراء کی رات کو پیغام بھیج کر کہا کہ سحری کھاؤ۔ پھر اگلے دن حضرت عمر نے بھی روزہ رکھا اور حضرت عبدالرحمن نے بھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9614
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9614، ترقيم محمد عوامة 9455)
حدیث نمبر: 9615
٩٦١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم (عن القاسم) (١) أنه كان يصوم عاشوراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9615
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9615، ترقيم محمد عوامة 9456)
حدیث نمبر: 9616
٩٦١٦ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن سلمة بن كهيل) (١) عن القاسم بن مخيمرة عن أبي عمار (عن) (٢) قيس بن سعد قال: أمرنا رسول اللَّه ﷺ بصيام (يوم) (٣) عاشوراء؟ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9616
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٤٧٧)، والنسائي في الكبرى (٢٨٤١)، والطحاوي (٢/ ٧٤)، والطيالسي (١٢١١) والطبراني ١٨/ (٨٨٨) وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٨٤ وعبد الرزاق (٥٨٠١) وابن عبد البر في التمهيد ١٤/ ٣٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9616، ترقيم محمد عوامة 9457)
حدیث نمبر: 9617
٩٦١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (سلمة عن) (١) القاسم فلما نزل رمضان لم يأمرنا ولم (ينهنا) (٢) ونحن نفعله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ ہمیں عاشوراء کے روزے کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا، ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9617
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9617، ترقيم محمد عوامة 9458)
حدیث نمبر: 9618
٩٦١٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد أن النبي ﷺ أمر رجلًا من أسلم يوم عاشوراء فقال: "إئت قومك فمرهم أن يصوموا هذا اليوم"، فقال: ما أراني ⦗٢٣⦘ آتيهم حتى يصطبحوا فقال: "من (١) اصطبح منهم أن يصومه بقية يومه ومن لم يصطبح منهم أن يصوم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی سے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان کو حکم دو کہ آج کے دن روزہ رکھیں۔ اس آدمی نے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ جب میں ان کے پاس پہنچوں گا تو وہ ناشتہ کرچکے ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو ناشتہ کرچکا ہو اسے کہو کہ باقی دن کچھ نہ کھائے اور جس نے ناشتہ نہ کیا ہوا سے کہو کہ روزہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9618
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9618، ترقيم محمد عوامة 9459)
حدیث نمبر: 9619
٩٦١٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن سعيد بن جبير أن النبي ﷺ أمرهم بصومه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو عاشوراء کے روزے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9619
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9619، ترقيم محمد عوامة 9460)
حدیث نمبر: 9620
٩٦٢٠ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان يعجبه صوم (يوم) (١) عاشوراء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کو یوم عاشوراء کا روزہ پسند تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9620
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9620، ترقيم محمد عوامة 9461)
حدیث نمبر: 9621
٩٦٢١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن (زبيد) (١) عن عمارة (عن) (٢) قيس ابن سكن (الأسدي) (٣) أن الأشعث دخل على عبد اللَّه يوم عاشوراء وهو يطعم قال: ادن فكل، فقال: إني صائم، فقال: إنما كان هذا قبل أن ينزل رمضان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث عاشوراء کے دن حضر ت عبد اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبد اللہ کھانا کھار ہے تھے۔ آپ نے حضرت اشعث کو کھانے کی دعو ت دی، انہوں نے کہا میرا روزہ ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ روزہ تو رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے ہوا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9621
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٢٧) والنسائي في الكبرى (٢٨٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9621، ترقيم محمد عوامة 9462)
حدیث نمبر: 9622
٩٦٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم أن عمر كان لا يصومه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عاشوراء کا روزہ نہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9622، ترقيم محمد عوامة 9463)
حدیث نمبر: 9623
٩٦٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن زبيد) (١) عن عمارة (عن) (٢) ⦗٢٤⦘ (قيس) (٣) ابن سكن الأسدي عن عبد اللَّه مثله (٤) إلا أنه قال أدن فكل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ کی مذکورہ روایت ایک اور سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9623
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر رقم [٩٦٢١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9623، ترقيم محمد عوامة 9464)
حدیث نمبر: 9624
٩٦٢٤ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني يحيى بن (عبد الرحمن) (١) بن صيفي (أن عمرو) (٢) بن (أبي) (٣) يوسف (أخا) (٤) بني (وائل) (٥) أخبره أنه سمع معاوية يقول على المنبر: إن يوم عاشوراء يوم عيد، فمن شاء صامه وقد كان يصام ومن شاء تركه ولا حرج (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا کہ عاشوراء کا دن عید کا دن ہے، اس میں جو چاہے روزہ رکھے کیونکہ اس دن روزہ رکھا جاتا تھا۔ جو چاہے چھوڑ دے اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9624
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9624، ترقيم محمد عوامة 9465)
حدیث نمبر: 9625
٩٦٢٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن عمر بن الوليد قال: سئل عكرمة عن صيام يوم عاشوراء ويوم عرفة فقال: لا يصلح لرجل يصوم يومًا يرى أنه عليه واجب إلا رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے یوم عاشوراء اور یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ رمضان کے علاوہ کسی دن کے روزے کو واجب سمجھنا درست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9625، ترقيم محمد عوامة 9466)
حدیث نمبر: 9626
٩٦٢٦ - حدثنا [علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي بشر قال: سمعت عليًا يأمر بصوم عاشوراء] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ عاشوراء کے روزے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9626
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأبو بشر هو عبد اللَّه بن فيروز الديلمي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9626، ترقيم محمد عوامة 9467)
حدیث نمبر: 9627
٩٦٢٧ - [حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني قال: أخبرني أبو (ماوية) (١) قال: سمعت عليًا يقول (في صوم عاشوراء) (٢): فمن كان بدأ فليتم ومن كان أكل فليصم] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عاشوراء کے دن فرمایا کہ جس شخص نے کچھ کھالیا ہے وہ اب کچھ نہ کھائے اور جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9627
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9627، ترقيم محمد عوامة 9468)
حدیث نمبر: 9628
٩٦٢٨ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن أبي الخليل عن أبي قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "صوم عاشوراء كفارة سنة وصوم يوم عرفة كفارة سنتين، (سنة) (١) ماضية وسنة مستقبلة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں، ایک گذشتہ سال اور ایک آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9628
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9628، ترقيم محمد عوامة 9469)
حدیث نمبر: 9629
٩٦٢٩ - حدثنا ابن عيينة عن عبيد اللَّه بن أبي (يزيد) (١) سمع ابن عباس سئل عن (صيام) (٢) عاشوراء (فقال) (٣): ما علمت أني رأيت رسول اللَّه ﷺ (صام) (٤) يومًا قط يطلب فضله عن الأيام إلا هذا اليوم ولا شهرًا إلا هذا يعني رمضان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رمضان کے علاوہ کسی دن اور کسی مہینے کی خاص فضیلت کے پیش نظر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی دن اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9629
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٠٦) ومسلم (١١٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9629، ترقيم محمد عوامة 9470)
حدیث نمبر: 9630
٩٦٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن نافع عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان ⦗٢٦⦘ (يصوم) (٢) قبله وبعده يومًا مخافة أن يفوته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس یوم عاشوراء سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد بھی روزہ رکھا کرتے تھے تاکہ عاشوراء کا دن ضائع نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9630
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9630، ترقيم محمد عوامة 9471)