کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ ایک آدمی نفلی روزے رکھے جبکہ اس پر رمضان کی قضا باقی ہو
٩٥٣٦ - حدثنا أبو بكر (الحنفي) (١) عن قتادة عن إبراهيم قال: لا يتطوع الرجل بصوم وعليه شيء من (قضاء) (٢) رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ ایک آدمی نفلی روزے رکھے جبکہ اس پر رمضان کی قضا باقی ہو۔
٩٥٣٧ - حدثنا غندر عن (شعبة) (١) عن قتادة عن الحسن أنه كره أن يتطوع بصيام وعليه قضاء من رمضان إلا العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ ایک آدمی نفلی روزے رکھے جبکہ اس پر رمضان کی قضا باقی ہو، البتہ ذوالحجہ کے دس روزے رکھ سکتا ہے۔
٩٥٣٨ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن هشام عن أبيه قال: مثل الذي يتطوع وعليه قضاء من رمضان مثل الذي يسبح وهو يخاف أن تفوته المكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کی مثال جو رمضان کی قضا کے باقی ہونے کے باوجود نفلی روزے رکھے اس شخص کی سی ہے جو نفل نماز پڑھنے میں مشغول ہو اور فرض نماز چھوٹنے کا اندیشہ ہو۔
٩٥٣٩ - حدثنا ابن مهدي عن مالك بن أنس قال: سئل سليمان بن يسار وسعيد بن المسيب عن رجل تطوع وعليه قضاء من رمضان فكرها ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن یسار اور حضرت سعید بن مسیب سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نفلی روزہ رکھے اور اس پر رمضان کی قضاء باقی ہو، ان دونوں حضرات نے اسے مکروہ قرار دیا۔