کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا روزہ دار حلق میں دوائی لگا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 9533
٩٥٣٣ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن الأوزاعي قال: لا بأس أن يداوي الصائم لثته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ دار اپنے مسوڑھے پر دوائی لگائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9533، ترقيم محمد عوامة 9375)
حدیث نمبر: 9534
٩٥٣٤ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن (في الرجل يكون) (١) بفيه الجرح والعلة قال: لا بأس أن يضع عليه (الحضض) (٢) وأشباهه من الدواء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس آدمی کے بارے میں جس کے منہ میں کوئی زخم یا بیماری ہو فرماتے ہیں کہ وہ اس پر حضض یا کوئی اور دوائی لگا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9534
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9534، ترقيم محمد عوامة 9376)
حدیث نمبر: 9535
٩٥٣٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق عن ابن سيرين في رجل أصابه سلاق في شفتيه قال: لا بأس (بالحضض) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو ہونٹوں پر چھالے نکل آئیں تو وہ حضض نامی دوائی لگاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9535، ترقيم محمد عوامة 9377)