کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ کچھ مسافر روزہ رکھ لیں اور کچھ چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 9235
٩٢٣٥ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن سعيد عن قتادة عن أبي نضرة عن أبي ⦗٤٩٢⦘ سعيد قال: خرجنا مع نبي اللَّه ﷺ (من مكة) (١) (إلى) (٢) حنين في (اثنتي) (٣) عشرة بقيت من رمضان، فصام طائفة من أصحاب محمد (ﷺ) (٤) وأفطر آخرون فلم يعب ذلك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ابھی رمضان ختم ہونے میں بارہ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ آپ کے کچھ ساتھیوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا۔ آپ نے کسی کو کچھ نہ کہا۔
حدیث نمبر: 9236
٩٢٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون (عن التيمي) (١) عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: كنا نغزو مع النبي ﷺ، فمنا الصائم ومنا المفطر، فلا يعيب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شانہ بشانہ جہاد کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھتے تھے اور کچھ روزہ نہ رکھتے تھے۔ کوئی روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ نہ کہتا تھا۔
حدیث نمبر: 9237
٩٢٣٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد قال: (خرجت) (١) فصمت فقالوا (لي) (٢): أعد (قال) (٣) فقلت: إن أنسًا (أخبرني) (٤) أن أصحاب رسول اللَّه ﷺ كانوا يسافرون فلا يعيب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر پر تھا، میں نے روزہ رکھا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ تمہیں اس روزے کا اعادہ کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ مجھے حضرت انس نے بتایا ہے کہ صحابہ کرام سفر کرتے تھے اور کوئی روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ نہ کہتا تھا۔ اس کے بعد میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے ملا تو انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہی بات بتائی۔
حدیث نمبر: 9238
٩٢٣٨ - فلقيت ابن أبي مليكة فأخبرني عن عائشة بمثله (١).
حدیث نمبر: 9239
٩٢٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن داود عن الشعبي والحسن وسعيد بن المسيب (قالوا) (١): كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ (مسافرين) (٢) فيصوم الصائم ويفطر المفطر فلا يعيب الصائم على المفطر (ولا) (٣) المفطر على الصائم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی، حسن اور حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام جب سفر پر ہوتے تو بعض لوگ روزہ رکھتے اور بعض نہ رکھتے، لیکن روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ نہ کہتا تھا۔
حدیث نمبر: 9240
٩٢٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن (عاصم) (١) عن أبي نضرة عن جابر قال: كنا مع [النبي ﷺ فمنا الصائم ومنا المفطر فلم يكن يعيب بعضنا على بعض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھتے اور کچھ روزہ نہ رکھتے لیکن روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ نہ کہتا تھا۔
حدیث نمبر: 9241
٩٢٤١ - حدثنا ابن نمير ثنا الأعمش عن شقيق قال: كنا مع أصحاب عبد اللَّه في سفر فصام بعضهم وأفطر بعضهم] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ ہم کچھ صحابہ کرام کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا۔