کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک دورانِ سفر رمضان کا روزہ رکھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9205
٩٢٠٥ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن صفوان بن عبد اللَّه عن أم الدرداء عن كعب بن عاصم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس من البر الصيام في السفر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔
حدیث نمبر: 9206
٩٢٠٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن عبد الرحمن بن (سعد) (١) عن ⦗٤٨٦⦘ محمد بن عمرو (بن) (٢) الحسن عن جابر بن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ في سفر فرأى رجلًا قد اجتمع (الناس عليه) (٣) وقد ظلل عليه فقال: ما له؟ قالوا: رجل صائم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ليس من البر أن تصوموا في السفر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، اس سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس پر لوگ جمع تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں کے نے بتایا کہ یہ روزہ دار ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9207
٩٢٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن مورق عن أنس قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر، فمنا الصائم ومنا المفطر، فقام المفطرون فضربوا الأبنية وسقوا الركاب، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ذهب المفطرون (اليوم) (١) بالأجر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، کچھ لوگوں کا روزہ تھا اور کچھ لوگوں کا روزہ نہ تھا۔ جن لوگوں کا روزہ نہیں تھا انہوں نے خیمے لگائے اور مشکیزے بھرے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر کے اعتبار سے آگے بڑھ گئے۔
حدیث نمبر: 9208
٩٢٠٨ - حدثنا خالد بن مخلد عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبيه قال: الصائم (في السفر) (١) كالمفطر في الحضر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بن عبدا لرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 9209
٩٢٠٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) قال: سألت ابن (عباس) (٢) عن الصوم في السفر؟ فقال: عسر ويسر خذ بيسر اللَّه عليك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سفر میں روزہ کے بارے میں سوال کیا کہ ایک مشکل چیز ہوتی ہے اور ایک آسان ۔ اگر اللہ تمہیں کسی معاملے میں آسانی دیں تو اسے قبول کرو۔
حدیث نمبر: 9210
٩٢١٠ - حدثنا ابن نمير عن زكريا عن عامر أنه كان لا يصوم في السفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سفر میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9211
٩٢١١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عوف (قال) (١): بلغني أن الحسن كان يقول: الإفطار في السفر والحضر (رخصة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 9212
٩٢١٢ - [حدثنا محمد (١) بن بشر حدثنا سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد (أن) (٢) ابن (عباس) (٣) قال: الافطار في السفر (عزمة) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا عزیمت کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 9213
٩٢١٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال: ثنا) (١) سعيد عن قتادة عن ابن عمر قال: الإفطار في السفر صدقة تصدق اللَّه بها على عباده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9214
٩٢١٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) عن ابن عباس أن النبي ﷺ صام عام الفتح حتى بلغ الكديد ثم أفطر، وإنما يؤخذ (بالآخر) (٢) من فعل رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال روزہ رکھا اور جب آپ مقام کدید پر پہنچے تو آپ نے روزہ کھول دیا۔ قاعدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخر عمل کو لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 9215
٩٢١٥ - حدثنا وكيع عن أبي العميس قال: سألت أبا جعد عن الصوم في السفر فقال: لا تصومن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیس کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعد سے سفر میں روزے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہرگز روزہ نہ رکھو۔
حدیث نمبر: 9216
٩٢١٦ - حدثنا وكيع (عن) (١) عبد اللَّه بن حميد عن عبد اللَّه بن ذكوان أن ابن عمر أقام بالشام رمضانين فأفطر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ذکوان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دو رمضان شام میں قیام فرمایا لیکن روزے نہیں رکھے۔
حدیث نمبر: 9217
٩٢١٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن منصور بن (حيان) (١) قال: قال سعيد بن جبير: من صحبني في سفر فلا يصومنَّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جو سفر میں میرے ساتھ رہے وہ ہرگز روزہ نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 9218
٩٢١٨ - حدثنا وكيع عن (مضرس) (١) بن عبد اللَّه قال: قلت للشعبي إني أقيم بالري قال: (صل) (٢) ركعتين قلت: فالصوم قال: لا تصم أفطر وإن أقمت عشر سنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مضرس بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے کہا میں ریّ میں رہتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دو رکعتیں پڑھو۔ میں نے کہا روزے کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ بھی نہ رکھو خواہ تم دس سال تک قیام کرو۔
حدیث نمبر: 9219
٩٢١٩ - حدثنا أبو داود (عمر) (١) بن سعد عن سفيان عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ كان في سفر ومعه أبو بكر وعمر فأتي بطعام فقال لهما: "ادنوا (فكلا) (٢) "، فقالا: يا رسول اللَّه إنا صائمان، فقال: " (ارحلوا) (٣) (بصاحبيكم) (٤) اعملوا (بصاحبيكم) (٥) ⦗٤٨٩⦘ ادنوا (فكلا) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا کہ آؤ اور کھالو۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہمارا روزہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے کجاوہ تیار کرو، اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے کام کرو، دونوں قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ۔