حدیث نمبر: 9085
٩٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا سفيان بن عيينة عن إسماعيل بن أمية عن أبي (١) محمد بن عمرو بن حريث عن جده سمع أبا هريرة يقول: إذا صلى أحدكم في أرض (فلاة) (٢) فلينصب عصًا فإن لم (يكن) (٣) معه عصا فليخط خطًا بالأرض ولا يضره ما مر بين يديه قال: أبو القاسم يعني (رواية) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کوئی کسی صحراء وغیرہ میں نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ اپنے سامنے اپنی لاٹھی کھڑی کرلے۔ اگر لاٹھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر کھینچ لے، اس سے اس کے سامنے سے گذرنے والی کوئی چیز اس کی نماز کو نقصان نہ پہنچائے گی۔
حدیث نمبر: 9086
٩٠٨٦ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: ثنا محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال: (أراد) (١) إنسان (أن) (٢) ينصب بين يدي طاوس شيئا وهو يؤمُّنا فمنعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت طاوس نماز پڑھا رہے ہوتے اور کوئی ان کے سامنے کوئی چیز رکھنا چاہتا تو اسے منع کردیتے۔