کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی آدمی کے کپڑوں میں تختیاں وغیرہ ہوں تو کیا وہ اس حال میں نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 9071
٩٠٧١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر ومحمد بن علي (وعطاء وطاوس والقاسم ومجاهد) (١) قالوا: لا بأس أن يصلي الرجل المكتوبة وغيرها وفي كمه الألواح والصحيفة فيها الشعر وأشباهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر، حضرت محمد بن علی، حضرت عطاء ، حضرت طاوس، حضرت قاسم اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کی آستین میں لکھی یا ان لکھی تختیاں ہوں یا ایسے صحیفے ہوں جن پر اشعار وغیرہ لکھے ہوں تو اس حال میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9071
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9071، ترقيم محمد عوامة 8922)
حدیث نمبر: 9072
٩٠٧٢ - حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: لا بأس أن يصلي الرجل وفي حجزته الألواح والصحيفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے کپڑوں میں تختیاں اور صحیفے موجود ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9072
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9072، ترقيم محمد عوامة 8923)
حدیث نمبر: 9073
٩٠٧٣ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن القاسم أنه كان لا يرى بأسًا أن يصلي (الرجل) (١) وفي حجزته الدراهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے کپڑوں میں دراہم موجود ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9073
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9073، ترقيم محمد عوامة 8924)