کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا آدمی نماز میں کبھی ایک سورت سے اور کبھی دوسری سورت سے پڑھ سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 9058
٩٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (حاتم) (١) بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب قال: رسول اللَّه ﷺ على بلال وهو يقرأ من هذه السورة ومن هذه السورة (فقال: "مررت بك يا بلال وأنت تقرأ من هذه السورة ⦗٤٤٣⦘ ومن هذه السورة") (٢) فقال: بأبي أنت يا رسول اللَّه إني أردت أن أخلط الطيب بالطيب قال: "إقرأ السورة على نحوها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ حضرت بلال کے پاس سے گذرے وہ کبھی ایک سورت سے پڑھتے اور کبھی دوسری سورت سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بلال ! میں تمہارے پاس سے گذرا تھا تم کبھی ایک سورت سے پڑھتے تھے اور کبھی دوسری سورت سے ! انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں، میں چاہتا تھا کہ خوشبو کو خوشبو کے ساتھ ملاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ ایک ہی سورت کو پوری طرح پڑھو۔
حدیث نمبر: 9059
٩٠٥٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: كان عمار يخلط من هذه السورة ومن هذه السورة فقيل له فقال: أترون أخلط فيه ما ليس منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمار دورانِ تلاوت مختلف سورتوں سے پڑھا کرتے تھے۔ ان کے اس عمل پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ میں سورت میں ان الفاظ کو داخل کردوں گا جو اس کا حصہ نہیں ؟
حدیث نمبر: 9060
٩٠٦٠ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: سئل محمد عن الذي يقرأ من ها هنا (فقال) (١) (ليتق) (٢) (لا) (٣) يأثم إثما عظيما وهو لا يشعر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ محمد سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی دوران قراءت مختلف حصوں سے پڑھے تو یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے اس سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ کہیں بےدھیانی میں وہ کسی بڑے گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے !
حدیث نمبر: 9061
٩٠٦١ - حدثنا (١) الفضل بن دكين قال: حدثنا الوليد بن جميع قال: حدثني رجل أثق به أنه أم الناس (بالحيرة) (٢) خالد بن الوليد فقرأ من سور شتى ثم التفت إلينا حين انصرف فقال: شغلني الجهاد عن (تعلم) (٣) القرآن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن جمیع ایک ثقہ راوی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے حیرہ میں لوگوں کی امامت کرائی، انہوں نے مختلف سورتوں سے پڑھا، پھر سلام پھیرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ جہاد نے مجھے قرآن سیکھنے نہ دیا۔
حدیث نمبر: 9062
٩٠٦٢ - حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه كان يكره أن يقرأ من سورتين حتى يختم واحدة ثم (١) يأخذ في أخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن دو سورتوں سے تلاوت کو مکروہ قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ ایک سورت کو مکمل کرنے کے بعد دوسری کو شروع کیا جائے۔