٩٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يحلى المصحف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم مصحف پر زیور چڑھانے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٩٠٣٧ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: أتيت عبد الرحمن ⦗٤٣٧⦘ ابن أبي ليلى بتبر فقال: هل عسيت (أن) (١) أحلي به (مصحفًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبدا لرحمن ابی لیلیٰ کے پاس سونے یا چاندی کی ایک ڈلی لے کر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم امید کرتے ہو کہ میں اسے قرآن مجید پر چڑھاؤں گا ؟
٩٠٣٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد قال: لا بأس أن تحلى المصاحف.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مصاحف پر زیور چڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٠٣٩ - حدثنا أبو خالد عن محمد بن عجلان عن (شعيب) (١) بن أبي سعيد عن أبي (٢) قال: إذا حليتم مصاحفكم وزوقتم مساجدكم (فالدمار) (٣) عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے مصاحف پر زیور چڑھانے لگو گے اور اپنی مسجدوں کو سجانے لگو گے تو تباہی تمہیں آ لے گی۔
٩٠٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن الأحوص بن حكيم عن أبي الزاهرية عن أبي أمامة أنه كره أن تحلى المصاحف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوامامہ نے مصاحف پر زیور چڑھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔