کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا کفار مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 9014
٩٠١٤ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): ثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: لما قدم وفد ثقيف على النبي ﷺ (نزلوا قبة) (٢) كانت في مؤخر المسجد فلما حضرت الصلاة قال رجل من القوم: يا رسول اللَّه حضرت الصلاة وهؤلاء قوم كفار وهم في المسجد فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن الأرض لا تنجس"، أو نحو هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب بنوثقیف وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہیں مسجد کے پچھلے حصہ میں ٹھہرایا گیا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے اور یہ کافر مسجد میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٦٢٠)، وأبو داود في المراسيل (١٨)، وسيأتي متصلًا ٣/ ١٩٧ برقم: [١٠٨٨٥].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9014، ترقيم محمد عوامة 8866)
حدیث نمبر: 9015
٩٠١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يونس عن الحسن أن وفد ثقيف قدموا على النبي ﷺ وهو في المسجد في قبة له فقيل لرسول اللَّه ﷺ يا رسول (١) اللَّه إنهم مشركون فقال: "إن الأرض لا ينجسها شيء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بنو ثقیف وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ آپ سے کسی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ تو مشرک ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زمین کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9015
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9015، ترقيم محمد عوامة 8867)
حدیث نمبر: 9016
٩٠١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن أبي عبد اللَّه العسقلاني أنه أخبره من رأى ابن محيريز صافح نصرانيا في مسجد دمشق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ عسقلانی فرماتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے بتایا کہ اس نے ابن محیریز کو دمشق کی مسجد میں ایک عیسائی سے مصافحہ کرتے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9016
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9016، ترقيم محمد عوامة 8868)
حدیث نمبر: 9017
٩٠١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الهيثم عن طلحة عن مجاهد أنه كان لا يرى بأسا أن يجلس أهل الكتاب في المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ اہل کتاب مسجد میں بیٹھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9017، ترقيم محمد عوامة 8869)
حدیث نمبر: 9018
٩٠١٨ - حدثنا عباد بن عوام عن حصين قال: كتب عمر بن عبد العزيز لا (يجلس قاضٍ) (١) في مسجد (٢) يدخل عليه اليهودي والنصراني فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز نے اپنے گورنروں کو خط لکھا کہ تم قاضی کو مسجد میں نہ بٹھاؤ جہاں یہودی اور عیسائی ان کے پاس آئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9018
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9018، ترقيم محمد عوامة 8870)
حدیث نمبر: 9019
٩٠١٩ - حدثنا هاشم بن القاسم عن محمد بن طلحة عن أبيه عن أبي صالح قال: ليس للمشركين أن يدخلوا المسجد إلا خائفين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ مشرکین صرف خوف کی حالت میں مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9019، ترقيم محمد عوامة 8871)