حدیث نمبر: 8996
٨٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي بالليل صلاته وأنا معترضة بينه وبين القبلة، فإذا أراد أن يوتر (أوقظني) (١) فأوترت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھا کرتے تھے میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگادیتے اور میں وتر ادا کرتی۔
حدیث نمبر: 8997
٨٩٩٧ - حدثنا وكيع عن حنظلة الجمحي عن سالم بن عبد اللَّه قال: صلى بنا ابن الزبير فمرت بين أيدينا امرأة بعد ما قد صلينا ركعة أو ركعتين فلم يبال بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھائی، ایک یا دو رکعتیں پڑھنے کے بعد ایک عورت ہمارے آگے سے گذری تو حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔
حدیث نمبر: 8998
٨٩٩٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا (طلحة) (١) بن يحيى عن (عبيد اللَّه) (٢) بن عبد اللَّه بن عتبة عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي بالليل وأنا إلى جنبه وأنا حائض وعلي مرط لي وعليه بعضه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حالت حیض میں رات کے وقت لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، میری چادر کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا تھا اور کچھ مجھ پر۔
حدیث نمبر: 8999
٨٩٩٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن أبي جعفر الفراء قال: سألت سعيد ابن جبير عن المرأة تمر بين يدي الرجل وهو يصلي قال: لا يقطع الصلاة شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فراء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی عورت اس کے سامنے سے گذر جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔
حدیث نمبر: 9000
٩٠٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال: ذكر له أن المرأة والحمار والكلب يقطعون الصلاة (فقال) (١) ابن ⦗٤٢٨⦘ عباس: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [فاطر: ١٠]، لا يقطع الصلاة شيء ولكنه يكره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا عورت، گدھے اور کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ انہوں نے جواب میں اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی {إلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ } یعنی پاکیزہ کلمے اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل بھی اسی کی طرف بلند ہوتا ہے۔ پھر فرمایا نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔