کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک پیاز یا تھوم کھا کر مسجد میں آنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 8891
٨٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ليلى عن عطاء عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا أو المسجد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ بری سبزی کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8892
٨٨٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أكل (١) هذه البقلة فلا يقربن المسجد حتى يذهب ريحها"، يعني الثوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ سبزی یعنی تھوم کھائے وہ اس وقت تک مسجد میں نہ آئے جب تک اس کی بدبو ختم نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 8893
٨٨٩٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن الحكم بن (عطية) (١) عن أبي (الرباب) (٢) عن معقل بن يسار قال: سمعته يقول كنا مع النبي ﷺ فقال ﷺ: "من أكل من هذه الشجرة فلا يقربن مصلَّانَا"، يعني الثوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تھوم کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8894
٨٨٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال العدوي عن أبي بردة عن الغيرة بن شعبة قال: أكلت ثوما ثم أتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته ⦗٣٩٨⦘ قد سبقني بركعة، فلما قمت أقضي وجد ريح الثوم فقال: "من أكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا (١) حتى يذهب ريحها"، قال: مغيرة فلما قضيت الصلاة أتيته، فقلت: يا رسول اللَّه (إن لي عذرا فناولني) (٢) يدك، قال: فوجدته واللَّه سهلا فناولني يده (فأدخلتها) (٣) (في كمي) (٤) إلى صدري فوجده (معصوبا) (٥) فقال: "إن لك عذرًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے تھوم کھایا اور پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آگیا۔ جب میں مسجد میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب میں اپنی رکعت پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھوم کی بدبو محسوس ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ جو یہ سبزی کھائے وہ اس وقت تک مسجد میں نہ آئے جب تک اس کی بدبو ختم نہ ہوجائے۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرا ایک عذر ہے، آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ خدا کی قسم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم مزاج پایا۔ آپ نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے آپ کے دست مبارک کو اپنے سینے پر پھیرا۔ آپ نے اسے بندھا ہوا پایا تو فرمایا کہ تمہیں واقعی عذر ہے۔
حدیث نمبر: 8895
٨٨٩٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا (يونس) (١) (عن) (٢) أبي إسحاق عن عمير بن (قميم) (٣) (التغلبي) (٤) عن شريك بن حنبل العبسي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أكل (٥) هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا"، يعني الثوم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک بن حنبل عبسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ بری سبزی یعنی تھوم کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8896
٨٨٩٦ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد (الغطفاني) (١) عن معدان بن أبي طلحة اليعمري أن عمر بن الخطاب قام يوم جمعة خطيبا، أو خطبنا يوم جمعة فقال: يا أيها الناس إنكم تأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين: هذا الثوم (وهذا) (٢) البصل، لقد كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه، فيؤخذ بيده حتى يخرج (به) (٣) إلى البقيع، فمن كان أكلهما لا بد (٤) (فليمتهما) (٥) طبخا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم دو سبزیاں ایسی کھاتے ہو جو میرے خیال میں بری ہیں۔ ایک تھوم اور دوسری پیاز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں اگر کوئی ان سبزیوں کو کھاتا اور اس کے منہ سے ان کی بدبو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت البقیع کی طرف لے جایاجاتا تھا۔ اگر کسی نے انہیں کھانا بھی ہو تو انہیں پکا کر ان کی بو کو مار دے۔
حدیث نمبر: 8897
٨٨٩٧ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عبيد اللَّه بن أبي يزيد عن أبيه عن أم أيوب قالت: صنعت لرسول اللَّه ﷺ طعاما فيه بعض البقول فلم يأكل منه وقال: "إني أكره أن أؤذي صاحبي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ایوب فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک مرتبہ کھانا تیار کیا جس میں کچھ سبزیاں بھی تھیں۔ آپ نے ان سبزیوں کو نہیں کھایا اور فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں اپنے ساتھ والوں کو تکلیف دوں۔