حدیث نمبر: 8801
٨٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع (قال: حدثنا) (١): همام عن قتادة عن يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قرأ القرآن في أقل من ثلاث (لم) (٢) يفقهه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے قرآن مجید کو تین دن سے کم میں ختم کیا اس نے اسے نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 8802
٨٨٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر وسفيان عن علي بن (بذيمة) (١) [عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: من قرأ القرآن في أقل من ثلاث فهو راجز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن مجید کو تین دن سے کم میں ختم کیا وہ رجز پڑھنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 8803
٨٨٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن] (١) حصين بن عبد الرحمن عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: كان ابن مسعود يقرأ القرآن في كل ثلاث (وقلما يستعين بالنهار" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے، وہ دن میں بہت کم تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8804
٨٨٠٤ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي (عن أيوب) (١) (عن) (٢) أبي قلابة عن أبي أنه كان يختم القرآن في ثمانٍ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی آٹھ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8805
٨٨٠٥ - (حدثنا الثقفي عن خالد عن أبي قلابة أنه كان يختم القرآن في ثمان) (١) وإن تميما الداري كان يختم القرآن في سبع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم داری سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8806
٨٨٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن حفصة عن أبي العالية قال: كان معاذ (يكره) (١) أن يقرأ القرآن في أقل من ثلاث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8807
٨٨٠٧ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان الأسود يقرأ القرآن في شهر رمضان في ليلتين ويختمه في (سوى) (١) رمضان في ست، وكان علقمة يختمه في خمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رمضان میں دو راتوں میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے اور رمضان کے علاوہ چھ دنوں میں۔ حضرت علقمہ پانچ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8808
٨٨٠٨ - حدثنا وكيع (ثنا) سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه كان يقرأ القرآن في خمس وكان الأسود (بن يزيد) (١) (يقرأه) (٢) في ست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ پانچ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت اسود بن یزید چھ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8809
٨٨٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن إبراهيم) (١) قال: كان عبد الرحمن ابن يزيد يقرأ القرآن في كل سبع، وكان علقمة والأسود يقرأه أحدهما في خمس والآخر في ست، وكان إبراهيم يقرأه في سبع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن یزید سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت علقمہ اور حضرت اسود میں سے ایک پانچ دن میں اور دوسرے چھ دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ ابراہیم سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8810
٨٨١٠ - حدثنا عبد اللَّه بن داود عن هشام بن عروة قال: كان عروة يقرأ القرآن في كل سبع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8811
٨٨١١ - حدثنا الثقفي عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: كان يؤم الحي في رمضان وكان يختم في سبع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز رمضان میں اپنے علاقے والوں کو تراویح پڑھاتے تھے اور سات دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8812
٨٨١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن يعلى الطائفي عن عثمان بن عبد اللَّه بن أوس الثقفي عن جده أوس بن حذيفة قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ (١) وفد ثقيف قال: فانزلنا في قبة له ونزل إخواننا الأحلاف على مغيرة بن شعبة قال (فكان) (٢) رسول اللَّه ﷺ يأتينا بعد العشاء فيحدثنا وكان أكثر حديثه (تشكيَهُ) (٣) قريشًا ويقول: "ولا (سواء، كنا) (٤) بمكة (٥) مستضعفين مستذلين"، فلما أتينا المدينة كانت الحرب سجالا علينا ولنا؛ قال: فأبطأ علينا ذات ليلة فأطول؛ فقلنا يا رسول اللَّه (أبطات علينا، فقال) (٦): "إنه طرأ علي حزب من القرآن فكرهت أن أخرج حتى أقضيه"، فسالنا أصحاب رسول اللَّه ﷺ (كيف) (٧) كان رسول اللَّه ﷺ يحزب القرآن؟ فقالوا: كان يحزبه ثلاثًا وخمسًا وسبعًا وتسعًا وإحدى عشرة (وثلاث عشرة) (٨) وحزب المفصل (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثقیف کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمیں ایک قبہ میں ٹھہرایا۔ ہمارے کچھ حلیف بھائی حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس عشاء کے بعد تشریف لایا کرتے تھے۔ آپ کی اکثر گفتگو قریش کی شکایات پر مشتمل ہوتی تھی۔ آپ فرماتے کہ دونوں جگہ پریشانی ہے، مکہ میں کمزور اور لاچار تھے، مدینہ آئے تو لڑائیوں نے ہمیں گھیر لیا ہے، کچھ ہمارے خلاف جاتی ہیں اور کچھ ہمارے حق میں۔ ایک رات آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی، جب آپ تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج آپ نے تشریف لانے میں دیر کردی ! آپ نے فرمایا کہ میرے روز کی تلاوت کے معمول میں کچھ کمی رہ گئی تھی اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں اسے پورا کیے بغیر جاؤں۔ ہم نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزانہ کتنا قرآن پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ آپ قرآن مجید کو تین، پانچ، سات، نو، گیارہ، تیرہ اور حزب المفصل میں تقسیم فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 8813
٨٨١٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن عبد ربه بن سعيد الأنصاري عن (إنسان) (١) عن أبيه عن (زيد) (٢) بن ثابت قال: لأن أقرأ القرآن في شهر أحب إلي من أن أقرأه في خمس عشرة (ولأن) (٣) أقرأه في خمس عشرة أحب إلي من أن أقرأه في عشر، ولأن أقرأه في عشر أحب إلي من أن أقرأه في سبع، (وأقف) (٤) وأدعو (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں ایک مہینے میں قرآن پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں پندرہ دن میں پڑھوں۔ میں اسے پندرہ دن میں پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسے دس دنوں میں پڑھوں۔ میں اسے دس دن میں مکمل کروں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسے سات دن میں پڑھوں۔ میں رکتا ہوں اور دعا کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8814
٨٨١٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: (أقرؤوا) (١) القرآن (في سبع) (٢) ولا (تقرأوه) (٣) في ثلاث (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو سات دنوں میں پڑھو تین دنوں میں نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 8815
٨٨١٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن المسيب بن رافع قال: كان يختم القرآن في كل ثلاث، ثم يصبح اليوم الذي يختم فيه صائمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع قرآن مجید کو تین دن میں ختم فرماتے تھے، پھر جس رات قرآن ختم ہوتا اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8816
٨٨١٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم قال: جاء رجل إلى مسروق فقال: ما تقول في رجل يقرأ القرآن في جمعة؛ فقال مسروق: حسن، لو أخذت مصحفًا كل جمعة فأدخلته بيتا (لأوشك) (١) أن (يملأه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پا س آیا اور اس نے کہا کہ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جمعہ کو قرآن کی تلاوت کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اچھا ہے، اگر تم ہر جمعہ کو مصحف پکڑو اور اسے کسی کمرے میں داخل کرو تو امید ہے کہ یہ اسے بھر دے گا۔