٨٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن علي أنه كره أن يكتب القرآن في المصاحف الصغار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ قرآن کو چھوٹے مصاحف میں لکھا جائے۔
٨٧٨١ - حدثنا (وكيع قال: ثنا) (١) سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يقال عظموا القرآن (يعني) (٢) كبروا المصاحف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مصاحف کو بڑا رکھو۔
٨٧٨٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا علي بن مبارك عن (أبي حكيمة) (١) (العبدي) (٢) قال، كنا نكتب المصاحف بالكوفة فيمر علينا علي (فيقوم) (٣) فينظر فيعجبه خطنا ويقول: هكذا نوروا ما نور اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حکیمہ عبدی فرماتے ہیں کہ ہم کوفہ میں مصاحف لکھا کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گذرے اور ہمیں دیکھنے لگے، انہیں ہمارا خط اچھا محسوس ہوا، انہوں نے فرمایا کہ اس طرح اس چیز کو منور کرو جس طرح اللہ نے اسے روشنی بخشی ہے۔
٨٧٨٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد الملك بن شداد (الأودي) (١) عن (عبيد اللَّه) (٢) بن سليمان العبدي عن (أبي) (٣) (حكيمة) (٤) العبدي قال: (كنا) (٥) نكتب المصاحف بالكوفة فيمر علينا علي ونحن نكتب فيقول أجلّ قلمك قال (فقططت) (٦) منه ثم ⦗٣٧٣⦘ كتبت فقال: هكذا نوروا ما نور اللَّه (تعالى) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حکیمہ عبدی فرماتے ہیں کہ ہم کوفہ میں مصاحف لکھا کرتے تھے، ایک مرتبہ ہم لکھ رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گذرے اور انہوں نے فرمایا کہ اپنے قلم کی نوک موٹی رکھو۔ چناچہ میں نے اپنے قلم کو کاٹ کر موٹا کیا پھر لکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس طرح اس چیز کو منور کرو جس طرح اللہ نے اسے روشنی بخشی ہے۔
٨٧٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علي أنه كره أن يكتب القرآن في المصحف الصغير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ قرآن کو چھوٹے مصاحف میں لکھا جائے۔
٨٧٨٥ - حدثنا وكيع (وعبيد اللَّه) (١) عن سفيان عن ليث عن مجاهد أنه كره أن يقول: مصيحف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ کسی مصحف کو ” مصیحف “ چھوٹا مصحف کہا جائے۔