حدیث نمبر: 8718
٨٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال (١): ثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: صلى عمر صلاة عند البيت فقرأ: ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾ فجعل يومئ إلى البيت ويقول: ﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (٣) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ [قريش: ١، ٣ - ٤] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے بیت اللہ کے پاس نماز پڑھی، جب آپ نے (قریش کو پناہ دینے کے بہ سبب) پڑھا تو آپ نے بیت اللہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر یہ پڑھا : انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف میں امن بخشا۔
حدیث نمبر: 8719
٨٧١٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن (النعمان) (١) بن سالم عن ابن أبي (أوس) (٢) قال: كان جدي أوس أحيانا يصلي فيشير إلي وهو في الصلاة فأعطيه نعليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت اوس بعض اوقات نماز میں میری طرف اشارہ کرتے اور میں انہیں ان کے جوتے دیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 8720
٨٧٢٠ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن هشام قال: كان أبي يومئ في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد نماز میں اشارہ کرتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ایسا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 8721
٨٧٢١ - (و) (١) قال: كانت عائشة تفعله (٢).
حدیث نمبر: 8722
٨٧٢٢ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: لا بأس (في الإيماء) (١) في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں اشارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 8723
٨٧٢٣ - حدثنا حفص عن ليث قال: أصابني رعاف وأنا أطوف بالبيت فمررت بطاوس وهو يصلي فأشار إلي أن (أغسله) (١) بالماء ثم عد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میری نکسیر پھوٹ گئی، میں حضرت طاوس کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے میری طرف اشارہ کیا میں اسے پانی سے دھو کر دوبارہ وضو کروں۔
حدیث نمبر: 8724
٨٧٢٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد ربما أشار بيده وهو في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد بعض اوقات نماز میں اشارہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8725
٨٧٢٥ - حدثنا وكيع عن ابن عون قال: قلت لإبراهيم الرجل يشير إلى الشيء في الصلاة قال: إنّ في الصلاة لشغلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ کیا آدمی نماز میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز کی اپنی ایک مصروفیت ہے۔
حدیث نمبر: 8726
٨٧٢٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان لا يرى بأسًا أن يؤمئ الرجل في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی نماز میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرے۔
حدیث نمبر: 8727
٨٧٢٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأجلح (عن عطاء) (١) قال: قلت له: تكون لي الحاجة وأنا في الصلاة فأومئ إلى الجارية بيدي قال: إنا (نفعل) (٢) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اجلح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ بعض اوقات نماز میں مجھے کوئی ضرورت ہوتی ہے تو میں اپنی باندی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کردیتا ہوں، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسا تو ہم بھی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8728
٨٧٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق قال: رأيت عمرو بن ميمون وهو يصلي (فأومأ) (١) إلى رجل بيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن میمون کو نماز میں اشارہ کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 8729
٨٧٢٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: صرع النبي ﷺ عن فرس له فوقع على جذع نخلة فانفكت قدمه فدخلنا عليه نعوده وهو يصلي في مشوبة (لعائشة) (١) (جالسًا) (٢) فصلينا بصلاته ونحن قيام، ثم دخلنا عليه مرة أخرى وهو يصلي جالسا فصلينا بصلاته ونحن قيام فأومأ إلينا أن اجلسوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ گھوڑے سے نیچے گرے اور کھجور کے ایک تنے پر لگے جس سے آپ کے پاؤں میں چوٹ آگئی۔ ہم آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک کمرے میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے کھڑے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کردی۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے ہوکر آپ کی اقتداء شروع کردی تو آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 8730
٨٧٣٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: اشتكى رسول اللَّه ﷺ فدخل عليه ناس من أصحابه يعودونه فصلى رسول اللَّه ﷺ جالسًا فصلوا بصلاته قيامًا فأشار إليهم أن اجلسوا فجلسوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ بیمار ہوگئے تو آپ کے کچھ صحابہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو آپ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ نے انہیں اشارے سے کہا کہ بیٹھ کر نماز پڑھں ی۔ چناچہ وہ بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 8731
٨٧٣١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم أنه سئل عن الإيماء في الصلاة فقال: إن في الصلاة لشغلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیربن عدی کہتے ہیں کہ ابراہیم سے نماز میں اشارہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز کی اپنی مصروفیت ہے۔