کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے نماز میں ایک انگلی سے دعا کرنے کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 8651
٨٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي صالح ⦗٣٤٣⦘ عن أبي هريرة قال: أبصر النبي ﷺ سعدًا وهو يدعو بإصبعيه [قال: فقال له: "يا سعد أحِّد؛ أحد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو نماز مں دو انگلیوں سے دعا مانگتے دیکھا تو فرمایا کہ اے سعد ! ایک انگلی سے دعا مانگو، ایک انگلی سے دعا مانگو۔
حدیث نمبر: 8652
٨٦٥٢ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة أنه رأى رجلًا يدعو بإصبعيه] (١) (كلتيهما) (٢)، فنهاه وقال: بإصبع واحدة (باليمنى) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ایک آدمی کو شہادت کی دونوں انگلیوں سے دعا مانگتے دیکھا تو فرمایا کہ ایک انگلی سے اور داہنی انگلی سے دعا مانگو۔
حدیث نمبر: 8653
٨٦٥٣ - حدثنا جرير عن منصور عن راشد (أبي) (١) سعد عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا جلس في الصلاة وضع يده على فخذه يشير بإصبعه في الدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبدا لرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنی ران پر رکھتے اور دعا میں انگلی سے اشارہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 8654
٨٦٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن التميمي عن ابن عباس قال: هو الإخلاص يعني الدعاء بالإصبع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انگلی سے دعا مانگنا یہ اخلاص ہے۔
حدیث نمبر: 8655
٨٦٥٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن سليمان بن أبي (يحيى) (١) ⦗٣٤٤⦘ قال: كان أصحاب النبي ﷺ يأخذ بعضهم على بعض يعني الإشارة بالإصبع في الدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن ابی یحییٰ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ دعا میں انگلی سے اشارہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8656
٨٦٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن عثمان بن الأسود عن مجاهد أنه قال: الدعاء هكذا وأشار بإصبع واحدة [مقمعة الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ دعا میں انگلی سے اشارہ کرنا شیطان کو کوڑا مارنے کے مترادف ہے۔
حدیث نمبر: 8657
٨٦٥٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي علقمة عن عائشة قالت: إن اللَّه يحب أن (يدعى) (١) هكذا وأشارت بإصبع واحدة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ دعا میں یوں کیا جائے۔ یہ فرماکر انہوں نے ایک انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 8658
٨٦٥٨ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن محمد بن سيرين عن كثيربن أفلح قال: صليت فلما كان في آخر القعدة دلت هكذا وأشار ابن علية (بإصبعيه) (١) فقبض ابن (عمر) (٢) هذه يعني اليسرى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر ابن افلح کہتے ہیں کہ میں نے نماز پڑھی اور قعدہ ٔ اخیرہ میں شہادت کی دونوں انگلیوں کو اٹھایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بائیں انگلی کو پکڑ لیا۔
حدیث نمبر: 8659
٨٦٥٩ - [حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء عن ابن عمر أنه كان (١) يشير (بإصبعه) (٢) في الصلاة] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں اپنی انگلی سے دعا کا اشارہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8660
٨٦٦٠ - حدثنا أبو خالد عن حجاج (عن طلحة) (١) عن (خيثمة) (٢) أنه كان (يعقد) (٣) ثلاثة وخمسين ويشير بإصبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت خیثمہ انگلی سے تریپن تک گنتے تھے اور انگلی سے نما زمین دعا کا اشارہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8661
٨٦٦١ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانوا إذا رأوا إنسانا يدعو بإصبعيه ضربوا إحداهما وقالوا: إنما هو إله واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف جب کسی کو نماز میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دیکھتے تو ایک انگلی پر مارتے تھے اور فرماتے کہ معبود تو ایک ہے۔
حدیث نمبر: 8662
٨٦٦٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أشار الرجل بإصبعه في الصلاة فهو حسن وهو التوحيد، ولكن لا يشير بإصبعيه فإنه يكره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنی نماز میں ایک انگلی سے اشارہ کرے تو یہ اچھا ہے اور توحید کا اظہار ہے۔ البتہ دو انگلیوں سے اشارہ نہ کرے یہ مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 8663
٨٦٦٣ - حدثنا أبو خالد عن هشام بن عروة أن أباه كان يشير بإصبعه في الدعاء ولا يحركها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد دعا میں انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8664
٨٦٦٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن معبد بن خالد عن قيس بن سعد قال: كان لا يزاد (١)، هكذا وأشار بإصبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معبد بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد اس سے زیادہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 8665
٨٦٦٥ - حدثنا وكيع عن (عصام) (١) بن قدامة عن مالك بن نمير الخزاعي عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ جالسًا في الصلاة واضعًا يده اليمنى على فخذه يشير بإصبعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نمیر خزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھا ہوا تھا اور انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 8666
٨٦٦٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح أن النبي ﷺ رأى سعدًا يدعو بإصبعيه فقال: "أحد أحد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو نماز میں دو انگلیوں سے دعا مانگتے دیکھا تو فرمایا کہ اے سعد ! ایک انگلی سے دعا مانگو، ایک انگلی سے دعا مانگو۔
حدیث نمبر: 8667
٨٦٦٧ - حدثنا أبو خالد عن ابن عجلان عن عامر بن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا قعد يدعو وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى، ويده اليسرى على فخذه اليسرى وأشار بإصبعه السبابة، ووضع إبهامه على إصبعه (١) الوسطى (ويلقم) (٢) كفه اليسرى ركبته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قعدہ میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھ کر دعا مانگتے اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے۔ آپ اپنی انگشتِ شہادت سے اشارہ فرماتے اور اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنے گھٹنے پر بچھا رہنے دیتے۔
حدیث نمبر: 8668
٨٦٦٨ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ واضعًا (حد) (١) (مرفقه) (٢) الأيمن على فخذه اليمنى، وحلق بالإبهام والوسطى ورفع التي تلي الإبهام يدعو بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھا، پھر انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور پھر انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو اٹھا کر دعا کی۔
حدیث نمبر: 8669
٨٦٦٩ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال: أخبرني أبو هلال عن أبي برزة أن النبي ﷺ دعا على رجلين فرفع يديه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں پر بددعا کرتے ہوئے ہاتھوں کو بلند فرمایا۔
حدیث نمبر: 8670
٨٦٧٠ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن (حيان) (١) بن عمير عن عبد الرحمن ابن سمرة أن النبي ﷺ رفع يديه يعني في الدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا میں ہاتھوں کو بلند فرمایا۔