کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے دعا میں ہاتھوں کے اٹھانے کو مکروہ قرار دیا ہے
٨٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا إسماعيل بن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد الرحمن بن معاوية عن (ابن) (١) أبي (ذباب) (٢) عن (سهل) (٣) بن سعد قال: ما رأيت رسول اللَّه ﷺ شاهرًا (يديه) (٤) في الصلاة على منبر ولا غيره، ولقد رأيت (يديه) (٥) حذو منكبيه ويدعو (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سر مبارک سے اوپر کرتے نہیں دیکھا، نہ منبر پر اور نہ بغیر منبر کے۔ البتہ آپ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
٨٦٧٢ - حدثنا عباد بن عوام عن (سعيد) (١) عن قتادة عن أنس أن النبي ﷺ كان لا يرفع يديه في شيء من الدعاء إلا في الاستسقاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے دعاء استسقاء کے کسی موقع پر ہاتھوں کو دعا میں بلند نہیں فرماتے تھے۔
٨٦٧٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن تميم بن طرفة عن جابر بن سمرة قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ فقال: مالي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس، اسكنوا في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے ہاتھوں کو نماز میں سرکش اور بےقابو گھوڑے کی دم کی طرح اٹھا ہوا کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ نماز میں سکون اختیار کرو۔
٨٦٧٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: سئل هل كان رسول اللَّه ﷺ يرفع يديه؟ فقال: نعم شكى إليه الناس ذات جمعة (فقالوا) (١) يا رسول اللَّه قحط المطر وأجدبت الأرض وهلك المال قال: فرفع يديه ودعا حتى رأيت (بياض) (٢) أبطيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھوں کو بلند فرمایا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں، ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگ آپ کے پاس قحط سالی کی شکایت لے کر آئے اور کہا اے اللہ کے رسول ! بارشیں نہیں ہو رہیں، زمین بنجر ہوگئی ہے، مال ہلاک ہوگیا ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو بلند فرمایا اور دعا کی۔ اس موقع پر مجھے آپ کی بغلوں کی سفیدی بھی نظر آرہی تھی۔