حدیث نمبر: 8590
٨٥٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا قدامة العامري عن (جسرة بنت) (١) دجاجة عن أبي ذر أن النبي ﷺ ردد هذه الآية حتى أصبح: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: ١١٨] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی : اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اگر تو انہیں معاف کردے تو تو غالب، حکمت والا ہے۔
حدیث نمبر: 8591
٨٥٩١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سعيد بن عبيد الطائي قال: سمعت سعيد بن جبير وهو يصلي بهم في شهر رمضان يردد هذه الآية: ﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ (٧١) فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ﴾ [غافر: ٧١ - ٧٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبید طائی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں حضرت سعید بن جبیر نماز پڑھتے ہوئے اس آیت کو دہرا رہے تھے : وہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور گھسیٹے جائیں گے یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 8592
٨٥٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (حصين) (١) عن أبي الضحى عن مسروق أن تميما الداري ردد هذه الآية: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ (أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ) (٢)﴾ (٣) [الجاثية: ٢١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم داری نے اس آیت کو بار بار دہرایا { أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَہُمْ کَاَلَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَائً مَحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ } : وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوں گے ؟
حدیث نمبر: 8593
٨٥٩٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الرحمن بن عجلان عن (نسير) (١) أبي طعمة مولى الربيع بن (خثيم) (٢) (قال: كان الربيع بن خثيم) (٣) يصلي فمر بهذه الآية: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ﴾ (حتى) (٤) ختمها يرددها حتى أصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نسیر بن ابی طعمہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نماز پڑھتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے : وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوں گے ؟ تو صبح تک اسے ہی دہراتے رہے۔
حدیث نمبر: 8594
٨٥٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن معاوية بن قرة قال: سمعت عبد اللَّه بن مغفل يقول: قرأ النبي ﷺ في مسير له في عام الفتح سورة الفتح على راحلته فرجع في قراءته قال معاوية: ولولا أني أخاف أن يجتمع علي الناس لحكيت لكم قراءته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال اپنی سواری پر بار بار سورة الفتح کی تلاوت فرماتے رہے۔ حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں قراءت کا انداز بتاتا۔
حدیث نمبر: 8595
٨٥٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن الأسود قال: كانوا (يحبون) (١) أن يرجعوا بالآية من آخر الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ اسلاف کو یہ بات پسند تھی کہ رات کے آخری حصہ میں ایک ہی آیت کو بار بار پڑھیں۔
حدیث نمبر: 8596
٨٥٩٦ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: أراه عن إبراهيم قال: لا بأس أن يقف الرجل عند الآية فيرددها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی ایک آیت پر ٹھہر جائے اور اسے بار بار پڑھے۔