کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام؟
حدیث نمبر: 8568
٨٥٦٨ - حدثنا أبو محمد (١) عبد اللَّه بن يونس قال: ثنا بقي بن مخلد ﵀ (٢) ⦗٣٢٤⦘ قال: ثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ: أي الصلاة أفضل؟ قال: طول القنوت (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8568
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٤٢٣٣)، وابن خزيمة (١١٥٥)، وأبو يعلى (٢٢٩٦)، وابن حبان (١٧٥٨)، والترمذي (٣٨٧)، وعبد بن حميد (١٠٦٠)، وأصله في مسلم (٧٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8568، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 8569
٨٥٦٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن رجل من أصحاب النبي ﷺ (قال) (١): (أن النبي ﷺ كان) (٢) يقوم في الصلاة حتى ترم قدماه فقيل له فقال: "ألا أكلون عبدا شكورًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے، آپ سے کسی نے اس بارے میں کمی کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا کہ کیا مں، اللہ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه وكيع كما في نسخته (٣٧)، وأخرجه من حديث أبي هريرة تمام (١١٥٦)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٢٤، وابن أبي حاتم في المجروحين ١/ ١٦١، والترمذي في الشمائل (٢٦٤)، وأخرجه أحمد في الزهد مرسلًا ص ١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8569، ترقيم محمد عوامة 8433)
حدیث نمبر: 8570
٨٥٧٠ - حدثنا وكيع عن مسعر وسفيان عن زياد بن علاقة عن المغيرة بن شعبة عن النبي ﷺ مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8570
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١١٣٠)، ومسلم (٢٨١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8570، ترقيم محمد عوامة 8434)
حدیث نمبر: 8571
٨٥٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: طول القيام أحب إليَّ من كثرة الركوع والسجود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ لمبا قیام مجھے رکوع و سجود کی کثرت سے زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8571، ترقيم محمد عوامة 8435)
حدیث نمبر: 8572
٨٥٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حجاج بن حسان قال: سمعت أبا مجلز (أو سألت أبا مجلز) (١) عن صلاة الليل أطول القراءة أحب إليك أو كثرة الركوع والسجود فقال: لا بل طول القراءة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن حسان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مجلز سے تہجد کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ لمبی قراءت آپ کو زیادہ پسند ہے یا زیادہ رکوع و سجود ؟ انہوں نے فرمایا لمبی قراءت مجھے زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8572، ترقيم محمد عوامة 8436)
حدیث نمبر: 8573
٨٥٧٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن يحيى بن (رافع) (١) قال: كان يقال لا تطيل القراءة في الصلاة فيعرض لك الشيطان (فيفتنك) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن رافع فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نماز میں لیب قراءت نہ کرو ورنہ شیطان تمہیں فتنے میں ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8573، ترقيم محمد عوامة 8437)
حدیث نمبر: 8574
٨٥٧٤ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن منصور عن سالم بن أبي الجعد قال: (حدثني أن رجلًا) (٢) أتى إلى أبي ذر بالربذة فقال: أين أبو ذر؟ فقالوا: هو في سفح ذاك الجبل في (غنيمة) (٣) له، قال: فأتيته فإذا هو يصلي (وإذا) (٤) هو يقل القيام ويكثر الركوع والسجود، (قال: فلما صلى قلت: يا أبا ذر رأيتك تصلي تقل القيام وتكثر الركوع والسجود) (٥) فقال: إني حدثت أنه ليس من مسلم يسجد للَّه سجدة إلا (رفعه) (٦) اللَّه بها درجة وكفر عنه بها (خطيئة) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو ذر کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ ابو ذر کہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کررہے تھے۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو میں نے عرض کیا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کرتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان اللہ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے ایک درجہ کو بڑھا دیتے ہیں اور اس سے ایک گناہ کو کم کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8574، ترقيم محمد عوامة 8438)
حدیث نمبر: 8575
٨٥٧٥ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي مصعب الأسلمي أن غلاما من أسلم كان يخدم النبي ﷺ (يحف به) (١) فقال: يا رسول اللَّه ادع اللَّه لي أن يدخلني الجنة أو يجعلني في شفاعتك قال: "نعم وأَعنِّي بكثرة السجود" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مصعب اسلمی کہتے ہیں کہ اسلم کا ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے یا مجھے آپ کی شفاعت نصیب کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، تم زیادہ سجدوں کے ذریعے میری مدد کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8575
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه الطبراني (٢٠/ "٨٥١").
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8575، ترقيم محمد عوامة 8439)
حدیث نمبر: 8576
٨٥٧٦ - حدثنا وكيع عن سماك بن زيد عن أنس بن سيرين عن مسروق أنه كان يصلي حتى تجلس امرأته تبكي خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق اتنی لمبی نما ز پڑھتے تھے کہ ان کے پیچھے ان کی اہلیہ بیٹھ کر رونے لگتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8576، ترقيم محمد عوامة 8440)
حدیث نمبر: 8577
٨٥٧٧ - حدثنا وكيع عن الأعمش وسفيان عن زبيد عن مرة قال: قال عبد اللَّه إنك ما دمت في صلاة تقرع باب الملك ومن يكثر قرع باب الملك يوشك أن يفتح له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ جب تک تم نماز میں ہوتے ہو تو تم بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہو اور جو زیادہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لئے کھول ہی دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8577
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8577، ترقيم محمد عوامة 8441)
حدیث نمبر: 8578
٨٥٧٨ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: طول القيام في الصلاة أفضل من الركوع والسجود.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ لمبا قیام رکوع و سجود سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8578
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8578، ترقيم محمد عوامة 8442)
حدیث نمبر: 8579
٨٥٧٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن خيثمة عن الحارث بن قيس قال: إذا هممت بخير فعجله وإذا أتاك الشيطان فقال: إنك ترائي فزدها طولًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن قیس فرماتے ہیں کہ جب تم کسی بھلائی کا ارادہ کرلو تو اسے جلدی سے کر گذرو، جب تمہارے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تو تو ریا کار ہے۔ اس صورت میں تم قیام کو اور لمبا کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8579
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8579، ترقيم محمد عوامة 8443)