کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے نماز میں کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
٨٥٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن إبراهيم قال: إذا أكل أو شرب في الصلاة استقبل الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے نما زمین کچھ کھالیا یا پی لیا تو وہ دوبارہ نماز پڑھے۔
٨٥٨١ - حدثنا ابن مهدي عن أبان العطار عن الصلت بن راشد قال: سئل طاوس عن الشرب في الصلاة قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے نماز میں پینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں۔
٨٥٨٢ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عطاء عن حجاج وإبراهيم أنهما كرها الشرب في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج اور ابراہیم نے نماز میں پینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٨٥٨٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب [عن ابن سيرين قال: لا يحل الأكل في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نما زمین کھانا جائز نہیں۔
٨٥٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث] (١) عن طاوس قال: لا بأس بالشرب والإمام يخطب (يوم الجمعة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن امام کے خطبے کے دوران پینے میں کوئی حرج نہیں۔