حدیث نمبر: 8555
٨٥٥٥ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عبد اللَّه بن الحارث أن ابن عباس صلى بهم في زلزلة كانت أربع سجدات (ركع فيها ستًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو زلزلہ کی نماز پڑھائی جس میں انہوں نے چار سجدے کئے اور چھ رکوع کئے۔
حدیث نمبر: 8556
٨٥٥٦ - حدثنا حفص عن ليث عن شهر قال زلزلت المدينة في عهد النبي ﷺ فقال: "إن ربكم يستعتبكم فأعتبوه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مدینے میں ایک مرتبہ زلزلہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا رب تمہیں خیر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا تم خیر کی طرف لگ جاؤ۔
حدیث نمبر: 8557
٨٥٥٧ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن صفية ابنة أبي عبيد (قالت) (١): زلزلت الأرض على عهد عمر حتى (اصطفقت) (٢) السرر، فوافق ذلك عبد اللَّه بن عمر وهو يصلي فلم يدر (قالت) (٣): فخطب عمر (للناس) (٤) فقال: (أحدثتم) (٥) (لقد) (٦) عُجلتم، (قالت) (٧): ولا (أعلمه) (٨) إلا قال: لئن عادت لأخرجن من بين ظهرانيكم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک مرتبہ اتنا زلزلہ آیا کہ چارپائیاں ہلنے لگیں، حضرت عبدا للہ بن عمر اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہیں اس زلزلہ کا بالکل احساس نہیں ہوا۔ اس موقع پر حضرت عمر نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم نے دین میں نئی نئی باتیں پیدا کی ہیں اور تم نے بہت جلدی کی ہے۔ حضرت صفیہ فرماتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق انہوں نے اس کے بعد صرف اتنا فرمایا کہ اگر دوبارہ زلزلہ آیا تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا۔