کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نماز میں کلام کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 8326
٨٣٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جعفر بن برقان عن حبيب بن أبي مرزوق قال: قال عثمان: لا يقطع الصلاة شيء إلا الكلام والحدث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ نماز کو سوائے کلام اور بےوضو ہونے کے کوئی چیز نہیں توڑتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8326، ترقيم محمد عوامة 8193)
حدیث نمبر: 8327
٨٣٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن الرجل يتكلم في الصلاة فقالا: إذا تكلم وقد فرغ (من صلاته) (١) فزاد فقد مضت وعليه سجدتا السهو، وإن تكلم ولم يتم صلاته فإنه يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نماز میں کلام کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ نماز پوری کرنے کے بعد کچھ اضافہ کررہا تھا اس وقت کلام کیا تو اس کی نماز ہوگئی اور وہ سجدہ سہو کرے اور اگر نماز پوری کرنے سے پہلے کلام کیا تو وہ دوبارہ نماز پڑھے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8327
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8327، ترقيم محمد عوامة 8194)
حدیث نمبر: 8328
٨٣٢٨ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن قال: يستأنف.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ نماز پڑھے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8328
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8328، ترقيم محمد عوامة 8195)
حدیث نمبر: 8329
٨٣٢٩ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: إذا تكلم في الصلاة أعاد الصلاة ولم يعد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے نماز میں کلام کیا تو وہ نماز تو دوبارہ پڑھے گا البتہ دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8329
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8329، ترقيم محمد عوامة 8196)