٨٣١٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (عبده) (١) بن سليمان عن هشام أن أباه كان يدعو للزبير في صلاته ويسميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عروہ اپنی نماز میں حضرت زبیر کا نام لیتے اور ان کے لئے دعا کرتے تھے۔
٨٣١٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي إياس قال: قال أبو الدرداء: إني لأدعو لسبعين من إخواني وأنا ساجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ میں سجدے کی حالت میں اپنے ستر بھائیوں کے لئے دعا کرتا ہوں۔
٨٣١٩ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن (مجالد) (٢) عن الشعبي أن عليا (٣): كان يسمي الرجال بعد الصلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز کے بعد کی دعا میں لوگوں کا نام لیا کرتے تھے۔
٨٣٢٠ - حدثنا هشيم قال: أنا الفضل بن عطية قال: أخبرني من رأى عروة بن الزبير وهو يصلي (وهو) (١) يقول: اللهم اغفر للزبير اللهم اغفر لأسماء ابنة أبي بكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضل بن عطیہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے عروہ بن زبیر کو دیکھا ہے کہ وہ نماز میں کہا کرتے تھے : اے اللہ ! زبیر کی مغفرت فرما، اے اللہ ! اسماء بنت ابی بکر کی مغفرت فرما۔
٨٣٢١ - حدثنا هشيم عن يونس عن (١) (الحسن) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اپنی نماز میں جس کے لئے تمہیں اچھا لگے دعا کرو۔
٨٣٢٣ - حدثنا معاذ عن ابن عون قال: نبئت أن عمر بن عبد العزيز كتب أن لا يسمى (أحد) (١) في الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط لکھا کہ دعا میں کسی کا نام نہ لیا جائے۔
٨٣٢٤ - حدثنا وكيع عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن (ابن) (١) الفرافصة قال: سمعت ابن الزبير (٢) يقول وهو ساجد: اللهم اغفر للزبير اللهم اغفر لأسماء ⦗٢٥٧⦘ (بنت) (٣) أبي بكر (الصديق) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرافصہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو سجدے کی حالت میں یہ کہتے سنا : اے اللہ ! زبیر کی مغفرت فرما، اے اللہ ! اسماء بنت ابی بکر کی مغفرت فرما۔
٨٣٢٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء قال: لا بأس أن يقول في الصلاة: اللهم ارزقني غلامًا ولا يسمي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نماز میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اے اللہ ! مجھے لڑکا عطا فرما۔ البتہ نام نہ لے۔