کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالى «وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِك »، اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو کی تفسیر
حدیث نمبر: 8301
٨٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة في قوله: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: ١١٠]، قالت: في الدعاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
حدیث نمبر: 8302
٨٣٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (عبيد) (١) المكتب عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت عطاء اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
حدیث نمبر: 8303
٨٣٠٣ - وعن سفيان عن سماك وابن عيينة عن عطاء قالا: الدعاء.
حدیث نمبر: 8304
٨٣٠٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن (سعيد) (١) بن جبير قال: قراءة القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کی تلاوت ہے۔
حدیث نمبر: 8305
٨٣٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم (الهجري) (١) عن (أبي) (٢) عياض قال: الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
حدیث نمبر: 8306
٨٣٠٦ - حدثنا وكيع قال: نا شعبة عن (أبي) (١) بشر عن سعيد بن جبير قال: كان النبي ﷺ (٢) "إذا قرأ (يرفع) (٣) صوته، يعجب ذلك المسلمين ويسوء الكفار قال: ⦗٢٥٣⦘ فنزلت: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعیدبن جبیر فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت فرماتے تو آواز کو اونچا کرتے، اس سے مسلمان خوش ہوتے اور کفار کو برا لگتا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
حدیث نمبر: 8307
٨٣٠٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء عن الأسود ابن هلال عن عبد اللَّه (قال) (٢): لم يخافت من أسمع أذنيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس کے کانوں کو وہ سنارہا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔
حدیث نمبر: 8308
٨٣٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن ابن سيرين (قال) (١): سألت عبيدة عن (القراءة) (٢) (فقال) (٣): أسمع (نفسك) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبیدہ سے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے دل کو سناؤ۔
حدیث نمبر: 8309
٨٣٠٩ - [حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عاصم عن الحسن أنه قال في قراءة النهار: أسمع (نفسك) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن دن کی نمازوں کی قراءت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اپنے دل کو سناؤ۔
حدیث نمبر: 8310
٨٣١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الهجري عن أبي عياض قال: كان النبي (ﷺ) (١) إذا صلى عند البيت جهر بقراءته فكان المشركون يؤذونه فنزلت: ﴿وَلَا ⦗٢٥٤⦘ تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ الآية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تو اپنی آواز کو بلند فرماتے ، جس پر مشرکین ان کو تکلیف دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
حدیث نمبر: 8311
٨٣١١ - محمد بن فضيل عن أشعث عن عكرمة عن ابن عباس (١) قوله: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ قال: الدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
حدیث نمبر: 8312
٨٣١٢ - حدثنا وكيع عن شعبة [عن الحكم عن مجاهد قال: الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
حدیث نمبر: 8313
٨٣١٣ - حدثنا (معاوية) (١) بن هشام] (٢) قال: حدثنا سفيان عن عياش العامري عن عبد اللَّه بن شداد قال: كان (أعراب) (٣) من بني تميم إذا سلم النبي ﷺ قالوا: اللهم ارزقنا مالا وولدا فنزلت: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ بنوتمیم کے دیہاتیوں کا معمول یہ تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرتے تو وہ کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں مال واولاد عطا فرما۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
حدیث نمبر: 8314
٨٣١٤ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سفيان (عن) (١) عياش العامري عن عبد اللَّه بن شداد (بمثله) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8315
٨٣١٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن شعبة عن منصور عن ابن سيرين. ⦗٢٥٥⦘ ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ قال: (يحسن) (٢) علانية (ويتجوز) (٣) سرا: ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ قال: (تجعلها) (٤) سواء في السر والعلانية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے علانیہ طور پر خوبصورت اور پوشیدہ طور پر عمدہ ہونا چاہئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ تم اسے ظاہری اور باطنی طور پر برابر رکھو۔
حدیث نمبر: 8316
٨٣١٦ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا أبو سعيد قال: حدثنا سالم (عن) (١) سعيد ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ قال: كان النبي ﷺ يرفع صوته ببسم اللَّه الرحمن الرحيم، وكان مسيلمة قد تسمى بالرحمن، فكان المشركون إذا سمعوا ذلك من النبي ﷺ قالوا: قد ذكر مسيلمة إله اليمامة، ثم عارضوه بالمكاء والتصدية (والصفير) (٢) فأنزل اللَّه تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ اور مسیلمہ اپنے آپ کو رحمن کہتا تھا۔ مشرکین نے جب آپ سے بسم اللہ میں الرحمن کا لفظ سنا تو کہنے لگے کہ انہوں نے یمامہ کے معبود مسیلمہ کا ذکر کیا ہے، پھر نوبت مناظرے، چیلنج اور شور وغل تک پہنچ گئی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }