کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے رکوع اور سجدوں میں قراءت کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 8274
٨٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن سليمان (بن) (١) سحيم عن إبراهيم بن عبد اللَّه بن معبد عن أبيه عن ابن عباس قال: كشف رسول اللَّه ﷺ الستارة والناس صفوف خلف أبي بكر، وقال: "يا أيها الناس إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة، يراها المسلم أو ترى له، ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعًا أو ساجدا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الوفات میں پردہ اٹھایا تو دیکھا کہ لوگ حضرت ابوبکر کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا ” اے لوگو ! نبوت کی مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی بچے ہیں جنہیں مسلمان دیکھے گا یا اسے دکھائے جائیں گے۔ غور سے سنو ! مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یاسجدے میں قرآن کی تلاوت کروں “
حدیث نمبر: 8275
٨٢٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا (محمد) (١) بن عمرو قال: حدثني إبراهيم ابن عبد اللَّه بن (حنين) (٢) عن أبيه قال: سمعت عليًا برحبة الكوفة يقول: نهاني رسول اللَّه ﷺ عن قراءة القرآن وأنا راكع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رکوع میں تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 8276
٨٢٧٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: لا تقرأ القرآن وأنت راكع ولا ساجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی حالت میں تلاوت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8277
٨٢٧٧ - حدثنا ابن إدريس وعبيد اللَّه بن موسى عن عبيد اللَّه بن أبي زياد قال: قرأت السجدة وأنا ساجد، فسألت سعيد بن جبير فقال: يجزئِك، ولِمَ تقرأ وأنت ساجد؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر میں حالت سجود میں آیت سجدہ پڑھوں تو سجدۂ تلاوت کیسے کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے وہی سجدہ کافی ہے، لیکن تم حالت سجود میں تلاوت کیوں کرتے ہو ؟
حدیث نمبر: 8278
٨٢٧٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: لا قراءة في الركوع ولا في السجود، إنما جعلا لذكر اللَّه (تعالى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجود میں قراءت نہیں ہے، یہ دونوں ارکان اللہ کے ذکر کے لئے بنائے گئے ہیں۔