کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 8222
٨٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال أبو هريرة: إذا شك أحدكم في البلة وهو في الصلاة فليضع يده على الحصى فليمسح إحداهما بالأخرى وليمض في صلاته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں تری کا شک ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو کنکریوں پر رکھے اور پھر ایک دوسرے پر مل لے، پھر نماز پڑھتا رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8222
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8222، ترقيم محمد عوامة 8092)
حدیث نمبر: 8223
٨٢٢٣ - حدثنا معتمر أنه سمع أباه يحدث أن زيد بن ثابت وحذيفة والحسن البصري وعطاء لم يروا بأسا بالبلة يجدها الرجل وهو يصلي، إلا أن عطاء قال: إلا أن (تقطر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، حسن بصری اور حضرت عطاء اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنے آلۂ تناسل پر تری محسوس کرے۔ البتہ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر قطرہ نکل آئے تو وضو ٹوٹ گیا۔ حضرت سعد بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر پیشاب کا قطرہ تمہارے پاؤں پر گرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، نہ اس پر اعادہ لازم ہے اور نہ ہی وضو کرنا لازم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8223، ترقيم محمد عوامة 8093)
حدیث نمبر: 8224
٨٢٢٤ - قال: وقال سعيد بن المسيب: فإن قطر على رجلك (فلا يراها ولا) (١) هؤلاء عليه إعادة ولا طهورًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8224، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 8225
٨٢٢٥ - حدثنا معتمر عن أبيه قال: حدثني شيخ عن الحسن بن علي أنه سأل زيد بن ثابت عن ذلك فرخص فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت زید بن ثابت سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں رخصت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8225، ترقيم محمد عوامة 8094)
حدیث نمبر: 8226
٨٢٢٦ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن يونس عن حميد بن هلال قال، سئل حذيفة عن الرجل يجد البلة بعد الوضوء فقال: ما كنت أبالي إذا كان (١) بعد الوضوء، ذاك كان أو هذا وأومأ بيده إلى فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وضو کے بعد اپنے آلۂ تناسل پر تری محسوس کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس بات مں و کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ وضو کے بعدیہ ہو یا وہ ہو۔ یہ فرما کر انہوں نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8226، ترقيم محمد عوامة 8095)
حدیث نمبر: 8227
٨٢٢٧ - حدثنا أبو بكر الحنفي عن الضحاك بن عثمان عن محمد بن عبد الرحمن قال: سألت سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير و (سليمان) (١) بن يسار وأبا سلمة بن ⦗٢٣٤⦘ عبد الرحمن عن الرجل يخرج منه المذي؟ فكلهم قال: أنزله بمنزلة القرحة ما علمت منه فاغسله، وما غلبك منه فدعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب، حضرت عروہ بن زبیر، حضرت سلیمان بن یسار اور حضرت ابو سلمہ بن عبدا لرحمن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس سے مذی خارج ہو۔ ان سب نے فرمایا کہ اسے پھنسی کی طرح سمجھو، جو نظر آجائے اسے دھو لو اور جو تم پر غالب آجائے اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8227، ترقيم محمد عوامة 8096)