کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر کسی آدمی کو نماز میں اس کا والد بلائے تو وہ کیا کرے؟
❮
❯
٨٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن بن أبي ذئب عن محمد بن المنكدر قال: (قال) (١) رسول اللَّه ﷺ: "إذا دعتك أمك في الصلاة فأجبها، وإذا دعاك أبوك فلا تجبه (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہاری ماں تمہیں نماز میں بلائے تو اسے جواب دو اور اگر تمہارا باپ بلائے تو اسے جواب نہ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8228، ترقيم محمد عوامة 8097)
٨٢٢٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن مكحول قال: إذا دعتك والدتك وأنت في الصلاة فأجبها، وإذا دعاك أبوك فلا تجبه حتى تفرغ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب تمہاری ماں تمہیں نماز میں بلائے تو اسے جواب دو اور اگر تمہارا باپ بلائے تو اسے جواب نہ دو ، یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8229، ترقيم محمد عوامة 8098)
٨٢٣٠ - حدثنا هشيم عن العوام قال: سألت مجاهدًا قال: قلت له: تقام الصلاة وتدعوني والدتي؟ قال: أجب والدتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سوال کیا کہ اگر نماز کھڑی ہوجائے اور میری والدہ مجھے بلائے تو میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنی والدہ کو جواب دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8230، ترقيم محمد عوامة 8099)
٨٢٣١ - حدثنا زيد بن حباب عن همام بن يحيى قال: ثنا (فرقد) (١) السبخي عن (مرة) (٢) الطيب عن عمر أنه كره للرجل أن يصلي (و) (٣) في رجليه قيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے آدمی کے پاؤں میں بیڑی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8231
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف فرقد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8231، ترقيم محمد عوامة 8100)