کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 8209
٨٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن الزهري عن عباد (بن) (١) تميم عن ⦗٢٢٩⦘ عمه (قال) (٢): شكي إلى النبي ﷺ الرجل يجد الشيء في الصلاة يشتبه عليه قال: "إنه لا يجب عليه شيء، حتى يجد ريحه (أو) (٣) يسمع صوته" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ بعض اوقات آدمی کو نماز میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس حال میں وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ آدمی پر اس وقت تک وضو واجب نہیں جب تک اسے ہوا محسوس نہ ہو اور جب تک اسے آواز نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8210
٨٢١٠ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عياض بن هلال عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا جاء أحدكم الشيطان وهو في صلاته فقال له: إنك قد أحدثت، فليقل: كذبت ما لم يجد ريحه بأنفه أو يسمع صوته بأذنه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب شیطان تم میں سے کسی کی نماز میں آکر یہ کہے کہ تیرا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اس وقت تک اس کی تکذیب کرو جب تک ناک سے بو محسوس نہ ہو یا جب تک آواز نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8211
٨٢١١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا وضوء إلا من ريح أو صوت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وضو اس وقت تک نہیں ٹوٹتا جب تک ہوا خارج نہ ہو اور جب تک آواز نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8212
٨٢١٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن محمد بن عمرو بن عطاء قال: رأيت السائب بن (خباب) (٢) يشم ثوبه، فقلت له: مم ذلك رحمك اللَّه؟ فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا وضوء إلا من ريح أو سماع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سائب بن خباب کو دیکھا کہ وہ اپنا کپڑاسونگھ رہے تھے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ ایساکیوں کررہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے وضو اس وقت تک نہیں ٹوٹتا جب تک بو نہ آئے یا جب تک آواز نہ آئے۔
حدیث نمبر: 8213
٨٢١٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن المنهال (بن) (١) عمرو (عن) (٢) قيس بن (سكن) (٣) عن عبد اللَّه قال: إن الشيطان يأتي أحدكم وهو في الصلاة فيبل إحليله حتى يرى أنه قد أحدث، وأنه يأتيه فيضرب دبره فيريه أنه قد أحدث، فلا تنصرفوا حتى تجدوا ريحا أو تجدوا بللا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ شیطان تم میں سے کسی کی نماز میں آکر اس کے آلۂ تناسل کے سوراخ کو گیلا کردیتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ پھر وہ اس کی سرین پر مارتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا، تم اس وقت تک نماز نہ توڑو جب تک بو محسوس نہ ہو اور جب تک تری کا یقین نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 8214
٨٢١٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا العوام عن إبراهيم التيمي قال: قال عبد اللَّه: إن الشيطان يأتي أحدكم وهو في صلاته فينقر دبره ويريه أنه قد أحدث فإذا فعل ذلك فلا ينصرفن أحدكم حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات شیطان تم میں سے کسی کی نماز میں آکر اس کی سرین کو چونچ مارتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو اس وقت تک نماز نہ چھوڑے جب تک کوئی آواز نہ سنے یا بونہ محسوس ہو۔
حدیث نمبر: 8215
٨٢١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عكرمة عن ابن عباس قال: ساله رجل فقال له: إن الشيطان يأتيني وأنا في الصلاة فيوسوس لي حتى يقول: إنك قد أحدثت فقال: لا تنصرف حتى تجد لها ريحا (أو) (١) تسمع لها طنينا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ بعض اوقات شیطان نماز میں میرے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ میرا وضو ٹوٹ گیا، اس حالت میں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت نماز نہ چھوڑو جب تک تمہیں یہ بو محسوس نہ ہو یا جب تک تم کوئی آواز نہ سنو۔
حدیث نمبر: 8216
٨٢١٦ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب أنه سمعه يقول: إن الشيطان يجري من الإنسان مجرى الدم ثم (ينبض) (١) ⦗٢٣١⦘ عثد (عجانه) (٢) فيخرجه فلا يخرج أحدكم حتى يسمع حسا أو يجد ريحا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ شیطان انسان کے جسم کے خون کے چلنے کی جگہ چلتا ہے۔ پھر اس کی سرین کے پاس ہاتھ لگاتا ہے تاکہ وہ نماز توڑ دے۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک کوئی آواز نہ سنے یا جب تک بو محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8217
٨٢١٧ - [حدثنا عباد (عن) (١) خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا تنصرف حتى تسمع صوتا أو تجد ريحا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت تک نماز نہ چھوڑے جب تک آواز نہ سنے یا جب تک بو محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8218
٨٢١٨ - حدثنا حفص عن داود عن شهر بن حوشب قال: إن الشيطان ليأتي أحدكم فيدخل (خطمه) (١) في دبره فيحركه ويحرك إحليله (لينتشر) (٢) (فلا) (٣) ينصرفن حتى يسمع صوتا أو (يجد) (٤) ريحا] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور ا س کی سرین میں اپنا ناک داخل کرتا ہے، پھر اسے حرکت دیتا ہے اور اس کے آلۂ تناسل کو بھی حرکت دیتا ہے تاکہ وہ تر ہوجائے۔ پس تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک کوئی آواز نہ سنے اور جب تک بو محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8219
٨٢١٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يقول: إن الشيطان يجري في الإحليل (فينبض) (١) عند الدبر فيرى الرجل أنه قد أحدث فلا ينصرفن أحدكم حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا أو يرى بللًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات شیطان آدمی کے آلۂ تناسل کے سوراخ سے داخل ہوکر دبر کے پاس حرکت دیتا ہے اور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک آواز نہ سنے، بو محسوس نہ کرے یا اسے تری محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8220
٨٢٢٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن جابر عن أبي جعفر قال: لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک نماز نہ توڑو جب تک آواز نہ سنو یا جب تک ہوا محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8221
٨٢٢١ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا الأعمش قال: حدثنا المنهال (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: إن الشيطان يطيف بالعبد ليقطع عليه صلاته، فإذا أعياه نفخ في دبره فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا، ويأتيه فيعصر ذكره فيريه أنه (أخرج) (٢) منه شيء فلا ينصرف حتى يستيقن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شیطان بعض اوقات نماز میں آدمی کو وسوسہ ڈالتا ہے تاکہ اس کی نماز کو توڑ دے، بندہ جب تنگ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے ۔ پس جب تک کوئی آواز نہ سنائی دے یا کوئی بو محسوس نہ ہو اس وقت تک نماز نہ توڑو۔ اسی طرح وہ آکر اس کے ذکر کو ہاتھ لگاتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے، پس یہ اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک اسے یقین نہ ہوجائے۔