حدیث نمبر: 7866
٧٨٦٦ - حدثنا محمد بن بشر ثنا هانئ بن عثمان فحدث عن أمه (حميضة) (١) ⦗١٤٩⦘ ابنة ياسر عن جدتها (يسيرة) (٢) وكانت (إحدى) (٣) المهاجرات، قالت: قال لها رسول اللَّه ﷺ: "عليكن بالتسبيح والتهليل والتكبير واعقدن بالأنامل فإنهن يأتين يوم القيامة (مسؤولات) (٤) (مستنطقات) (٥) ولا (تغفلن) (٦) (فتنسين) (٧) الرحمة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیرہ جو کہ ایک مہاجرہ صحابیہ ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ تم لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ اور اللہ اکبر کثرت سے کہاکرو، اور انہیں انگلیوں کے پوروں پر گنا کرو، کیونکہ قیامت کے ان سے سوال کیا جائے گا اور یہ بولیں گے۔ تم غافل نہ ہونا ورنہ رحمت سے محروم ہوجاؤ گی۔
حدیث نمبر: 7867
٧٨٦٧ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن التيمي عن أبي تميمة عن امرأة من بني كليب قالت: رأتني عائشة أسبح بتسابيح معي، فقالت: أين الشواهد (تعني) (١) الأصابع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنو کلب کی ایک عورت کہتی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے پاس موجود تسبیحوں سے تسبیحات کو شمار کررہی تھی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قیامت کے دن کے گواہ یعنی انگلیاں کہاں ہیں ؟
حدیث نمبر: 7868
٧٨٦٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن حكيم بن الديلمي عن مولاة لسعد أن سعدًا كان يسبح بالحصى (و) (١) النوى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد کنکریوں اور گٹھلیوں کے ذریعے تسبیحات کو شمار کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7869
٧٨٦٩ - [حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حكيم بن الديلمي عن مولاة لسعد أن سعدًا كان يسبح بالحصى والنوى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد کنکریوں اور گٹھلیوں کے ذریعے تسبیحات کو شمار کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7870
٧٨٧٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه (١) بن الاخنس، قال: حدثني مولى لأبي سعيد عن أبي سعيد أنه كان يأخذ ثلاث حصيات فيضعهن على فخذه فيسبح ويضع واحدة ثم يسبح ويضع (٢) أخرى ثم يسبح ويضع أخرى ثم (يرفعهن) (٣) (ويصنع) (٤) مثل ذلك، وقال: لا تسبحوا بالتسبيح (صفيرًا) (٥)] (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید کا معمول یہ تھا کہ وہ تین کنکریاں لیتے اور انہیں اپنی ایک ران پر رکھتے۔ پھر ایک مرتبہ تسبیح کہتے اور ایک کنکری اٹھاتے، پھر تسبیح کہتے اور ایک کنکری اٹھاتے ، پھر تسبیح کہتے اور تیسری کنکری بھی اٹھالیتے۔ پھر سب کنکریوں کو واپس رکھ کریہی عمل دہرایا کرتے تھے۔ اور فرماتے کہ اس طرح تسبیح نہ کہو کہ سیٹی کی آواز آنے لگے۔
حدیث نمبر: 7871
٧٨٧١ - حدثنا ابن علية عن (الجريري) (١) عن أبي نضرة عن رجل من (الطفاوة) (٢) قال: نزلت على أبي هريرة ومعه كيس فيه حصى أو نوى، فيقول: سبحان اللَّه سبحان اللَّه حتى إذا نفد ما في الكيس ألقاه إلى جارية سوداء فجمعته ثم دفعته (إليه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
طفاوہ کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ان کے پاس ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں۔ وہ ان پر سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھتے تھے۔ جب وہ تھیلی خالی ہوجاتی تو اسے ایک سیاہ باندی کودے دیتے وہ پھر انہیں جمع کرکے اس میں ڈال دیتی۔
حدیث نمبر: 7872
٧٨٧٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن (عن) (١) موسى القارئ عن طلحة بن عبد اللَّه عن (زاذان) (٢) قال: أخذت من أم (يعفور) (٣) تسابيح لها فلما أتيت عليا علمني (فقال) (٤): يا أبا عمر أردد على أم (يعفور) (٥) (تسابيحها) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ میں نے ام یعفور سے ان کی تسبیح کرنے کی گٹھلیاں لیں اور جب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی گٹھلیاں انہیں واپس کردو۔
حدیث نمبر: 7873
٧٨٧٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ (يعقده) (٢) بيده، يعني التسبيح (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھوں سے تسبیحات گنتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 7874
٧٨٧٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد أنه كان لا يرى بأسا أن يسبح الرجل ويعقد تسبيحه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی تسبیح کہے اور تسبیحات کو شمار بھی کرے۔
حدیث نمبر: 7875
٧٨٧٥ - حدثنا معن بن عيسى عن مختار بن سعد قال: رأيت محمد (بن) (١) ⦗١٥٢⦘ علي يسبح في النافلة (ويعقد) (٢) بيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ کو نفل نماز میں تسبیحات کو ہاتھوں پر شمار کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 7876
٧٨٧٦ - حدثنا ابن فضيل عن إبراهيم مؤذن بني حنيفة قال: رأيت ماهان الحنفي وأمر به الحجاج أن يصلب على بابه، فنظرت إليه وإنه على الخشبة وإنه يسبح ويكبر ويهلل ويحمد اللَّه حتى بلغ تسعة وعشرين يعقد بيده (فطعن) (١) وهو على تلك الحال (فلقد) (٢) رأيته بعد شهر (تسع) (٣) وعشرين بيده وكان يرى عنده ضوء بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
بنو حنیفہ کے مؤذن ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب حجاج نے ماہان حنفی کو سولی دینے کا حکم دیا اور انہیں لکڑی پر لٹکایا گیا تو میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ سبحان اللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ اور الحمد للہ پڑھ رہے تھے۔ وہ ان کلمات کو انگلیوں پر شمار بھی کررہے تھے، جب وہ انتیس کے عدد تک پہنچے تو انہیں اسی حال میں نیزہ مار دیا گیا۔ میں نے انہیں ایک مہینہ بعد دیکھا تو اس وقت بھی ان کے ہاتھ انتیس تک گننے کو ظاہر کررہے تھے۔ رات کو ان کے پاس ایک روشنی دکھائی دیتی تھی۔