کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7824
٧٨٢٤ - حدثنا وكيع ثنا مسعر عن سلمة بن كهيل عن أبي عمرو الشيباني، قال: قال عبد اللَّه: ما صلت امرأة صلاة قط أفضل من صلاة تصليها في بيتها إلا أن تصلي عند المسجد الحرام، إلا عجوز في منقليها يعني (خفيها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ کسی عورت نے اپنے کمرے سے بہتر کسی جگہ نماز نہیں پڑھی، البتہ وہ عورت جو مسجد حرام میں نماز پڑھے۔ البتہ کوئی بوڑھی عورت پھٹے ہوئے موزوں کے ساتھ آئے تو اس کے لئے جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7824
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7824، ترقيم محمد عوامة 7696)
حدیث نمبر: 7825
٧٨٢٥ - حدثنا وكيع ثنا إسرائيل عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن عبد اللَّه ابن عباس أن امرأة (سألته) (١) عن الصلاة في المسجد يوم الجمعة (فقال) (٢): صلاتك في مخدعك أفضل من صلاتك في بيتك، وصلاتك في بيتك أفضل من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك أفضل من صلاتك في مسجد قومك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے پردے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے گھر مں ن نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7825
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الأعلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7825، ترقيم محمد عوامة 7697)
حدیث نمبر: 7826
٧٨٢٦ - حدثنا وكيع ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن أبي الأحوص، قال: قال عبد اللَّه: المرأة عورة وأقرب ما تكون من ربها إذا كانت في قعر بيتها فإذا خرجت استشرفها الشيطان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر آتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7826
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7826، ترقيم محمد عوامة 7698)
حدیث نمبر: 7827
٧٨٢٧ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن أبي فروة الهمدانى عن أبي عمرو الشيباني قال: رأيت ابن مسعود يحصب النساء يخرجهن من المسجد يوم الجمعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکالنے کے لیے کنکریاں مارتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7827
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7827، ترقيم محمد عوامة 7699)
حدیث نمبر: 7828
٧٨٢٨ - حدثنا وكيع ثنا إياس بن دغفل، قال: سئل الحسن عن امرأة جعلت عليها أن أخرج زوجها من السجن أن تصلي في كل مسجد تجمع فيه الصلاة بالبصرة ركعتين، (فقال) (١) الحسن: تصلي في مسجد قومها، فإنها لا تطيق ذلك، لو أدركها عمر ابن الخطاب لأوجع رأسها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کا خاوند جیل سے آزاد ہوگیا تو وہ بصرہ کی ہر اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے گی جس میں جماعت ہوتی ہے۔ اس نذر کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے، کیونکہ وہ اپنی اس نذر کو پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر حضرت عمر اسے دیکھتے تو اس کے سر پر مارتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7828، ترقيم محمد عوامة 7700)
حدیث نمبر: 7829
٧٨٢٩ - حدثنا أبو الأحوص عن سعيد بن مسروق عن أبي عمرو الشيباني قال: سمعت (رب) (١) هذه الدار -يعني ابن مسعود- حلف فبالغ في اليمين ما صلت ⦗١٣٩⦘ امرأة صلاة أحب إلى اللَّه من صلاة في بيتها إلا في حج (أو عمرة) (٢) إلا امرأة قد أيست من البعولة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمر و شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے اس گھر کے مالک یعنی حضرت ابن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بھرپور قسم کھا کر فرمایا کہ عورت کی کوئی نماز اللہ کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں جسے وہ اپنے کمرے میں پڑھے۔ البتہ حج وعمرہ کی نماز اس سے مستثنیٰ ہے اور ایسی عورت جو خاوند کے قابل نہ رہی ہو وہ بھی اس سے مستثنیٰ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7829
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7829، ترقيم محمد عوامة 7701)
حدیث نمبر: 7830
٧٨٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) ثنا ابن لهيعة حدثتي عبد الحميد بن المنذر (الساعدي) (٢) عن أبيه عن جدته أم حميد قالت: قلت يا رسول اللَّه يمنعنا أزواجنا أن (نصلي) (معك) (٣) ونحب الصلاة معك فقال رسول اللَّه ﷺ: "صلاتكن في بيوتكن أفضل من صلاتكن في حجركن وصلاتكن في حجركن أفضل من صلاتكن في الجماعة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حمید فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! ہمارے خاوند اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں ، حالانکہ ہمیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے کمروں میں نماز پڑھنا گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھروں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7830، ترقيم محمد عوامة 7702)
حدیث نمبر: 7831
٧٨٣١ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم، قال: كان لإبراهيم ثلاث نسوة فلم يكن يدعهن يخرجن إلى جمعة ولا جماعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم کی تین بیویاں تھیں وہ انہیں جمعہ اور جماعت میں شریک نہ ہونے دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7831
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7831، ترقيم محمد عوامة 7703)