کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے دوستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 7711
٧٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا بالصف بين السواري.
مولانا محمد اویس سرور
حسن دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 7712
٧٧١٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد، قال: لا أعلم بالصلاة بين السواري بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 7713
٧٧١٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (وقاء) (١) قال: كان سعيد بن جبير يؤمنا بين ساريتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وقاء فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر ہماری امامت کرایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7714
٧٧١٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد، قال: رأيت إبراهيم التيمي يؤم قومه بين أسطوانتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم تیمی کو دو ستونوں کے درمیان اپنی قوم کو نماز کی امامت کراتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 7715
٧٧١٥ - [حدثنا وكيع ثنا موسى بن نافع، قال: رأيت سعيد بن جبير يؤمنا بين الساريتين] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو دو ستونوں کے درمیان نمازپڑھاتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 7716
٧٧١٦ - حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن بشر بن طعمة الثوري، قال: رأيت الربيع بن خثيم صلى في مرضه بين ساريتين يعتمد على إحداهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن طعمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو بیماری میں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھتے دیکھا ہے وہ ایک سے سہارا لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7717
٧٧١٧ - حدثنا وكيع ثنا سفيان وإسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى، قال: كان سويد بن غفلة يؤمنا بين أسطوانتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ دو ستونوں کے درمیان نماز کی امامت کرایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7718
٧٧١٨ - حدثنا حفص عن الأعمش، قال: كان يحيى بن وثاب يؤمنا بين أسطوانتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن وثاب دو ستونوں کے درمیان ہمیں نماز کی امامت کرایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7719
٧٧١٩ - حدثنا وكيع عن ربيعة بن عثمان التيمي، قال: نا إدريس الصنعاني عن رجل يقال له همدان، وكان بريد أهل اليمن إلى عمر قال: قال عمر: المصلون (أحق) (١) بالسواري من المتحدثين إليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ستونوں کے پاس نماز پڑھنے والے ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے والوں سے زیادہ کس چیز کے حق دار ہیں۔