کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر امام بھول جائے تو مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی
٧٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٤٧ - حدثنا هشيم عن الجريري عن أبي (نضرة) (١) عن أبي هريرة قال: صلى النبي ﷺ بالناس ذات يوم فلما قام ليكبر قال: "إن أنساني الشيطان شيئا من صلاتي فالتسبيح (للرجال) (٢) والتصفيق للنساء" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شیطان مجھے میری نماز بھلا دے تو مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٤٨ - حدثنا هشيم عن عبد الحميد المدني عن أبي حازم عن سهل بن سعد عن النبي ﷺ قال: "التسبيح للرجال (والتصفيق) (١) للنساء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٤٩ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي الزبير عن جابر قال: التسبيح في الصلاة للرجال والتصفيق للنساء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد قال: استأذنت (١) على ابن أبي ليلى وهو يصلي فسبح بالغلام ففتح لي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی لیلیٰ سے حاضری کی اجازت مانگی، انہوں نے تسبیح کے ذریعے اپنے غلام کو حکم دیا اور اس نے میرے لئے دروازہ کھول دیا۔
٧٤٥١ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: استأذن رجل على (جابر) (١) بن عبد اللَّه فسبح فدخل فجلس حتى انصرف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت جابر بن عبداللہ سے حاضری کی اجازت مانگی (وہ نماز پڑھ رہے تھے) انہوں نے تسبیح کہی، چناچہ وہ اندر آگیا اور ان کے نماز پورا کرنے تک بیٹھا رہا۔
٧٤٥٢ - حدثنا وكيع عن نافع (١) بن عمر عن ابن أبي مليكة قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يصلي في المسجد فمر به إنسان فسبح به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس سے گذرا انہوں نے اسے دیکھ کر تسبیح پڑھی۔
٧٤٥٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: [إذن الرجل إذا كان يصلي في بيته التسبيح وإذن المرأة التصفيق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مرد کمرے میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی اجازت تسبیح ہے اور عورت کی اجازت تالی بجانا ہے۔
٧٤٥٤ - حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد ربما كان الإنسان يجيء وهو في الصلاة فيرى ظله فيشير محمد بيده سبحان اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ دوران نماز محمد اگر کسی انسان کو آتا ہوا محسوس کرتے تو تسبیح کہا کرتے تھے۔
٧٤٥٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن يزيد بن أبي (زياد) (١) قال: دخلت على سالم ابن أبي الجعد وهو يصلي فقال: سبحان اللَّه، فلما انصرف قال: إن التسبيح للرجال والتصفيق للنساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد فرماتے ہیں کہ میں حضرت سالم بن ابی جعد سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے سبحان اللہ کہا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٥٦ - [حدثنا عبيدة بن حميد عن ابن أبي ليلى عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء] (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مرد تسبیح کہیں گے اور عورتیں تالی بجائیں گی۔
٧٤٥٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن الحارث العكلي عن عبد اللَّه (بن نجي) (١) عن علي قال: كنت إذا دخلت على النبي وهو يصلي (يتنحنح) (٢) بي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کبھی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری چاہتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ گلا کھنکھار دیتے تھے۔
٧٤٥٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن عمرو بن دينار قال: مررت بابن عمر وهو يصلي فانتهرني بتسبيحة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے تسبیح کہہ کر مجھے ڈانٹا۔