کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
حدیث نمبر: 7350
٧٣٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لما مرض رسول اللَّه ﷺ مرضه الذي مات فيه جاء بلال يؤذنه بالصلاة فقال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس" قلنا: يا رسول اللَّه (١) إن أبا بكر رجل (٢) (أسيف) (٣) ومتى يقوم مقامك يبكي فلا يستطيع فلو أمرت عمر فقال: مروا أبا بكر فليصل بالناس فإنكن صواحبات يوسف" فأرسل إلى أبي بكر (فصلى) (٤) بالناس، فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج إلى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الأرض فلما أحس به أبو بكر ذهب يتأخر، فأومأ إليه النبي ﷺ أن مكانك، قالت: فجاء النبي ﷺ فجلس إلى جنب أبي بكر فكان أبو بكر، يأتم بالنبي ﷺ والناس يأتمون بأبي بكر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! ابوبکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کو نماز کا حکم دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابوبکر کو پیغام دیا گیا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہں و اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7350
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٦٤)، ومسلم (٤١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7350، ترقيم محمد عوامة 7238)
حدیث نمبر: 7351
٧٣٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن أنس قال: لما مرض رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي مات فيه أتاه بلال فآذنه بالصلاة فقال: "يا بلال قد بلغت فمن شاء فليصل ومن شاء فليدع"، فقال يارسول اللَّه فمن يصلي بالناس؟ قال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس"، فلما تقدم أبو بكر رفعت الستور عن رسول اللَّه ﷺ فنظرنا إليه كأنه ورقة بيضاء عليه خميصة، فظن أبو بكر أنه يريد الخروج فتأخر، وأشار إليه رسول اللَّه ﷺ أن صل مكانك، فصلى أبو بكر وما رأينا رسول اللَّه ﷺ حتى مات من يومه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال ! تم نے پیغام پہنچا دیا اب جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! تو پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے ؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضرت ابوبکر نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرۂ مبارک کے خیمے اٹھائے گئے اور آپ وہاں سے یوں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک چاندی کے ٹکڑے کی طرح محسوس ہورہا تھا۔ آپ پر سیاہ رنگ کی ایک چادر تھی۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا توس مجھے کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں لہٰذا وہ مصلے سے پیچھے ہٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا اور اسی دن آپ کا وصال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7351
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سفيان ضعيف في الزهري، وأخرجه أحمد (١٣٠٩٣)، وأبو يعلى (٣٥٦٧)، وأصل الحديث في البخاري (٧٥٤)، ومسلم (٤١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7351، ترقيم محمد عوامة 7239)
حدیث نمبر: 7352
٧٣٥٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن أبي بردة عن أبي موسى قال: مرض رسول اللَّه ﷺ فاشتد مرضه فقال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس"، فقالت عائشة: (يا رسول اللَّه) (١) إن أبا بكر رجل رقيق، متى يقوم مقامك فلا يستطيع أن يصلي بالناس، فقال: "مري أبا بكر فليصل بالناس، فإنكن صواحب يوسف"، قال: فصلى بهم أبو بكر في حياة رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں جب آپ کا مرض شدت پکڑ گیا تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی نمازکا کہو، تم تو صواحبِ یوسف کی طرح ہو۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7352
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٧٨)، ومسلم (٤٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7352، ترقيم محمد عوامة 7240)
حدیث نمبر: 7353
٧٣٥٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي (الزبير) (١) عن جابر أن رسول اللَّه ﷺ أمهم وكان أبو بكر خلفه (فيكبر) (٢) النبي ﷺ (فيكبر) (٣) أبو بكر يسمع الناس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کہتے تو حضرت ابوبکر بلند آواز سے تکبیر کہہ لوگوں تک تکبیر کی آواز پہنچاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7353
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٤١٣)، والنسائي ٢/ ٨٤، والطحاوي ١/ ٤٠٣، والبيهقي ٣/ ٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7353، ترقيم محمد عوامة 7241)
حدیث نمبر: 7354
٧٣٥٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: لما قبض النبي ﷺ قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير فأتاهم عمر (فقال) (١): يا معشر الأنصار ألستم تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ أمر أبا بكر (يصلي) (٢) بالناس قالوا: (بلى) (٣) قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا تو انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک تم میں سے۔ اس پر حضرت عمر ان کے پاس آئے اور ان سے کہا اے انصار کی جماعت ! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم میں سے کس کا دل کرے گا کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٣٧٦٥)، والحاكم ٣/ ٦٧، والنسائي ٢/ ٧٤، وابن سعد ٣/ ١٧٨، ويعقوب في المعرفة (١/ ٤٥٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٥٩)، والبيهقي ٨/ ١٥٢، والضياء في المختارة (٢٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7354، ترقيم محمد عوامة 7242)
حدیث نمبر: 7355
٧٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت أبا سلمة ابن عبد الرحمن يحدث أن النبي ﷺ اشتكى فقال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس" فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة (فخرج) (١) فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر، فأومأ إليه النبي ﷺ مكانك فجاء النبي ﷺ حتى جلس إلى جنب أبي بكر، فكان أبو بكر يأتم بالنبي ﷺ والناس يأتمون بأبي بكر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الوفات کا شکار ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ کچھ دیر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں خفت محسوس کی تو آپ باہر تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سلمة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7355، ترقيم محمد عوامة 7243)
حدیث نمبر: 7356
٧٣٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم بن أبي النجود عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت: أغمي على النبي ﷺ فلما أفاق قال: "أصل الناس؟ " (قالت) (١): فقلنا: لا، قال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس"، قالت: فقلنا: يا رسول اللَّه (٢) إن أبا بكر رجل أسيف -قال: " (٣) عاصم الأسيف الرقيق الرحيم- وأنه متى (يقم) (٤) مقامك لا يستطيع أن يصلي بالناس"، قالت: ثم أغمي عليه ثم أفاق فقال مثل ذلك فرددت عليه ثلاث مرات فقال: "إنكن صواحب يوسف مروا أبا بكر فليصل بالناس"، فقالت: فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج بين بريرة و (توبة) (٥) (تخط) (٦) ⦗٣٤⦘ نعلاه إني (لأرى) (٧) (بياض) (٨) (بطون) (٩) قدميه وأبو بكر يؤم الناس فلما رآه أبو بكر ذهب يتأخر فأومأ إليه رسول اللَّه ﷺ أن لا يتأخر (قالت) (١٠): فقام أبو بكر بجنب النبي ﷺ (والنبي ﷺ) (١١) قاعد، يصلي أبو بكر بصلاة النبي ﷺ والناس يصلون بصلاة أبي بكر (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! وہ انتہائی نرم دل اور مہربان آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر وہی بات فرمائی، میں نے آپ کو تین مرتبہ جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہوں، ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں کچھ خفت محسوس کی، آپ بریرہ اور نوبہ کے سہارے سے باہر تشریف لے گئے، جسم مبارک میں کمزوری کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور میں آپ کے تلووں کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ تو پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کررہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم في ضعيف في شقيق، أخرجه ابن حبان (٢١١٨)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٥٣، وانظر ما بعده برقم [٧٣٥٧] ورقم [٧٣٥٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7356، ترقيم محمد عوامة 7244)
حدیث نمبر: 7357
٧٣٥٧ - حدثنا شبابة (بن سوار) (١) قال: حدثنا شعبة عن نعيم بن أبي هند عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة قالت: صلى رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي مات فيه خلف أبي بكر (قاعدًا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز اد ا کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7357، ترقيم محمد عوامة 7245)
حدیث نمبر: 7358
٧٣٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد اللَّه ابن عبد اللَّه بن عتبة قال: دخلت على عائشة فقلت لها ألا (تحدثيني) (١) عن مرض رسول اللَّه ﷺ قالت: بلى ثقل رسول اللَّه ﷺ فقال: "أصلى الناس؟ " (فقلت) (٢): ⦗٣٥⦘ لا، هم ينتظرونك يا رسول اللَّه (فقال): "ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: "أصلى الناس؟ " فقلنا (لا) (٣) هم ينتظرونك [(فقال) (٤): "ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: "أصلى الناس؟ " فقلنا: هم ينتظرونك] (٥) يا رسول اللَّه والناس (عكوف) (٦) في المسجد ينتظرون رسول اللَّه ﷺ (لصلاة) (٧) العشاء الآخرة، قالت: فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى أبي بكر أن صل بالناس (فأتاه الرسول فقال: إن رسول اللَّه ﷺ يأمرك أن تصلي بالناس) (٨) فقال أبو بكر وكان رجلًا رقيقًا: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: أنت أحق بذلك، فصلى بهم أبو بكر تلك الأيام قالت: ثم إن رسول اللَّه ﷺ وجد (من) (٩) نفسه خفة فخرج بين رجلين لصلاة الظهر، وأبو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه أبو بكر ذهب ليتاخر فأومأ إليه النبي ﷺ أن لا (يتأخر) (١٠) وقال لهما: "أجلساني إلى جنبه"، فأجلساه إلى جنب أبي بكر فجعل أبو بكر يصلي (وهو) (١١) (قائم) (١٢) بصلاة النبي ﷺ والناس (يصلون) (١٣) بصلاة أبي بكر والنبي ﷺ قاعد، قال عبيد اللَّه: فدخلت ⦗٣٦⦘ على عبد اللَّه بن عباس فقلت: ألا أعرض عليك ما حدثتني (به) (١٤) عائشة (من) (١٥) مرض رسول اللَّه ﷺ فقال: هات (فعرضت) (١٦) عليه حديثها فما أنكر منه شيئا (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے میں بتائیں گی ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت مبارکہ بہت بوجھل ہوگئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا نہیں، ابھی نہیں پڑھی۔ اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں، اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ لوگ مسجد میں رکے ہوئے عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے آپ کے منتظر تھے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو پیغام بھجوایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ایک نرم دل آدمی تھے ، انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ آپ اس کے زیادہ حقد ار ہیں۔ چناچہ ان دنوں میں حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپ کی طبیعت مبارکہ میں کچھ بہتری آئی تو آپ ظہر کی نماز کے لئے دو آدمیوں کے درمیان ان کے سہارے سے چلتے ہوئے مسجد تشریف لے گئے۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹنے سے منع کیا اور ان دونوں آدمیوں سے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ بٹھا دو ۔ ان دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے ساتھ بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اقتداء کررہے تھے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کا وہ واقعہ سناؤں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو۔ میں نے بیان کیا تو انہوں نے اس واقعہ میں سے ایک بات کا بھی انکار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7358
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7358، ترقيم محمد عوامة 7246)
حدیث نمبر: 7359
٧٣٥٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين عن عمرو بن وهب عن المغيرة (ابن) (١) شعبة أن النبي ﷺ صلى خلف عبد الرحمن بن عوف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7359
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٨١٣٤)، والنسائي (١/ ٦٣)، وابن خزيمة (١٠٦٤)، والطبراني ٢٠/ (١٠٣٧)، وابن سعد ٣/ ١٢٩، والبيهقي (٣/ ٩٢)، والدارمي (١٣٣٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ١٥٩، والمزي (٢٢/ ٢٩٢)، وابن عساكر ٣٥/ ٢٥٩، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7359، ترقيم محمد عوامة 7247)
حدیث نمبر: 7360
٧٣٦٠ - حدثنا جرير عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: (كان) (١) كون في الأنصار فأتاهم النبي ﷺ ليصلح بينهم (٢) فجاء (و) (٣) أبو بكر يصلي بالناس قال: فصلى خلف أبي بكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ انصار کے درمیان کوئی جھگڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو حضرت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ نے حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7360
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٢٠١)، ومسلم (٤٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7360، ترقيم محمد عوامة 7248)