کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک اگر کچھ لوگ جماعت ہونے کے بعد مسجد میں آئیں تو وہ اپنی جماعت کرا سکتے ہیں
حدیث نمبر: 7280
٧٢٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس بن عبيد قال: حدثني أبو عثمان اليشكري قال: مر بنا أنس بن مالك وقد صلينا صلاة الغداة ومعه رهط فأمر رجلًا منهم فأذن ثم صلوا ركعتين قبل الفجر قال: ثم أمروه فأقام ثم تقدم فصلى بهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان یشکری فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم فجر کی نماز پڑھ چکے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، انہوں نے ایک آدمی کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر انہوں نے فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر انہوں نے ایک آدمی کو اقامت کہنے کا حکم دیا اور خود آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 7281
٧٢٨١ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجعد أبي عثمان عن أنس بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7282
٧٢٨٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أبي حرة قال: دخلت أنا وعبد اللَّه بن حميد مسجدًا وقد صلي فيه (فقال) (١): ألا (تجيء) (٢) حتى (نصلي) (٣) في جماعة؟ قلت: إن بعضهم قد كره ذلك، قال: كان أبي لا يرى بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبد اللہ بن حمید مسجد میں داخل ہوئے وہاں نماز ہوچکی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آؤ جماعت کرا لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کچھ لوگ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ فرمانے لگے کہ میرے والد تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 7283
٧٢٨٣ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن أبي عروبة عن سليمان الناجي عن أبي المتوكل عن أبي سعيد قال: جاء رجل وقد صلى النبي ﷺ فقال: "أيكم يتجر على هذا؟ " قال: فقام رجل من القوم فصلى معه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا چکے تھے کہ ایک آدمی آیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون اس کے ساتھ ثواب کی تجارت کرے گا ؟ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے آنے والے کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 7284
٧٢٨٤ - حدثنا هشيم قال: (أنبانأ) (١) سليمان التيمي عن أبي عثمان قال: دخل رجل المسجد وقد صلى النبي ﷺ فقال: "ألا رجل يتصدق على هذا فيقوم فيصلي معه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھ لینے کے بعد ایک آدمی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون شخص اس پر صدقہ کرے گا اور اس کے ساتھ نماز پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 7285
٧٢٨٥ - حدثنا شريك عن عبد اللَّه بن يزيد قال: دخلت مع إبراهيم مسجد محارب وقد صلوا فأمني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم کے ساتھ محارب کی مسجد میں داخل ہوا، لوگ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے میری امامت کرائی۔
حدیث نمبر: 7286
٧٢٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن زياد مولى قريش قال: دخلت مع الحسن مسجد البصرة فوجدنا (هم) (١) قد صلوا فصلى بي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد مولی قریش فرماتے ہیں کہ میں حسن کے ساتھ بصرہ کی مسجد میں داخل ہوا، لوگ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے میری امامت کرائی۔
حدیث نمبر: 7287
٧٢٨٧ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا أن تصلى الجماعة (بعد الجماعة) (١) في مسجد الكلاء بالبصرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ بصرہ کی مسجد الکلأ میں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت کرائی جائے۔
حدیث نمبر: 7288
٧٢٨٨ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) منصور عن الحسن قال: إنما كانوا يكرهون أن يجمعوا مخافة السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اسلاف دوسری جماعت کو سلطان کے خوف سے ناپسندیدہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 7289
٧٢٨٩ - حدثنا وكيع عن مسافر (الجصاص) (١) عن فضيل بن عمرو أن عدي بن ثابت (وأصحابا) (٢) له رجعوا من جنازة فدخلوا مسجدا (و) (٣) قد صلي فيه فجمعوا فكره ذلك إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عدی بن ثابت اور ان کے کچھ ساتھیوں نے ایک جنازے سے واپسی پر ایک ایسی مسجد میں جاکر جماعت کرائی جہاں جماعت ہوچکی تھی۔ اس عمل کو ابراہیم نے ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 7290
٧٢٩٠ - حدثنا وكيع عن عبد ربه بن أبي راشد قال: حدثنا (الجعد) (١) قال: جاءنا أنس بن مالك وقد صلينا الغداة فأقام الصلاة ثم صلى بهم فقام وسطهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حی فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں ہمارے پاس آئے ، ہم نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے جماعت کھڑی کی اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر انہیں نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 7291
٧٢٩١ - [حدثنا أبو معاوية عن عمرو بن محمد عن عطاء أنه صلى هو و (سلم) (١) ابن عطية في المسجد الحرام في جماعة بعد ما صلى أهله] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت سلم بن عطیہ نے مسجد حرام میں جماعت ہونے کے بعد جماعت سے نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 7292
٧٢٩٢ - حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة أنه قال: يصلون جميعا في صف واحد إمامهم وسطهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ دوسری جماعت کرانے والے سب ایک صف میں کھڑے ہوں گے اور ان کا امام ان کے درمیان ہوگا۔
حدیث نمبر: 7293
٧٢٩٣ - حدثنا إسحاق الأزرق عن عبد الملك بن أبي سليمان عن سلمة بن كهيل أن ابن مسعود دخل المسجد وقد صلوا فجمع بعلقمة ومسروق والأسود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں د اخل ہوئے تو لوگ نماز پڑھ چکے تھے۔ انہوں نے علقمہ، مسروق اور اسود کو نماز پڑھائی۔