کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فرض سے پہلے نفل پڑھنے میں کوئی حرج نہیں
٧٢٧٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن منصور ويونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يتطوع] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرض سے پہلے نفل پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٧٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن حصين عن (ذر) (١) قال: يتطوع إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذر فرماتے ہیں کہ وہ اگر چاہے تو نفل پڑھ لے۔
٧٢٧٦ - حدثنا هشيم عن العوام عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل أنه كان يتطوع إذا (سبق) (١) بالمكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرض نماز چھوٹ جانے کی صورت میں بھی پہلے نفل پڑھا کرتے تھے۔
٧٢٧٧ - حدثنا حفص عن ابن عون قال: سئل الحسن عن الرجل يدخل المسجد وقد صلى أهله فقال: أما أنا فكنت أصلي (كما) (١) كنت أصلي قبل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ ایسا ہو تو میں اسی طرح نماز پڑھوں گا جس طرح معمول کے مطابق پڑھتا ہوں۔
٧٢٧٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: لا بأس به إذا كان في وقت صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر نماز کا وقت ہو تو نفل پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
٧٢٧٩ - أخبرنا وكيع قال: (نا) (١) شعبة قال: قال حماد: يتطوع إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو نفل پڑھ لے۔