حدیث نمبر: 7050
٧٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك (عن) (١) زبيد عن سعيد بن عبد الرحمن (بن أبزى) (٢) عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ كان يقرأ في وتره بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ فإذا سلم قال: (سبحان) (٣) الملك القدوس ثلاث مرات (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں میں سورة الاعلیٰ ، سورۃ ا لکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ یہ کلمات کہتے ” سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ “
حدیث نمبر: 7051
٧٠٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زبيد عن (ذر) (١) عن سعيد بن عبد الرحمن ابن أبزي عن أبيه أن النبي ﷺ كان يوتر بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ ويقول في آخر صلاته إذا جلس: "سبحان الملك القدوس" ثلاثًا يمد (بها) (٢) صوته (في الآخرة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں میں سورة الاعلیٰ ، سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ یہ کلمات کہتے ” سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ “ تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7052
٧٠٥٢ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن عمران ابن حصين أن النبي ﷺ كان يوتر بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7053
٧٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن زيد عن أنس بن سيرين (عن) (١) عمر كان يقرأ بالمعوذتين في الوتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر وتروں میں معوذتین کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7054
٧٠٥٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد الملك بن عمير قال: كان ابن مسعود يوتر بثلاث يقرأ في كل ركعة منهن بثلاث سور من (آخر) (١) المفصل من تأليف عبد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین رکعات وتر پڑھتے تھے اور ہر رکعت میں مفصل کے آخر سے کوئی سی تین سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 7055
٧٠٥٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان عن (١) عبد الرحمن عن زاذان أن عليًا كان يفعل ذلك أيضًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7056
٧٠٥٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير [عن ابن عباس قال: كان يقرأ في الوتر بثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وتر میں تین سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7057
٧٠٥٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير] (١) عن ابن عباس أنه كان يوتر بثلاث بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَاالْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سورة الاعلیٰ ، سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 7058
٧٠٥٨ - [حدثنا شبابة قال: حدثنا يونس عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أن النبي ﷺ كان يوتر بثلاث يقرأ فيهن (١) بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعات وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورة الاعلیٰ ، سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 7059
٧٠٥٩ - حدثنا شاذان قال: (حدثنا) (١) شريك عن (مخول) (٢) عن مسلم البطين ⦗٥٠٩⦘ عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي ﷺ بنحوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7060
٧٠٦٠ - [حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن ابن سيرين قال: كان عثمان يقرأ القرآن كله يوتر به] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان وتروں میں پورا قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7061
٧٠٦١ - حدثنا حفص عن حجاج بن (دينار) (١) قال: سألت أبا جعفر ما يقرأ في الركعتين من الوتر؟ قال: ليس شيء من القرآن (مهجورًا) (٢) (اقرأ) (٣) بما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سوال کیا کہ وتر کی دو رکعتوں میں کہاں سے قراءت کی جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید کا کوئی حصہ چھوڑا نہیں جاسکتا۔ تم جہاں سے چاہو قراءت کرلو۔
حدیث نمبر: 7062
٧٠٦٢ - [حدثنا هشيم قال: أخبرنا عينية بن عبد الرحمن عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقرأ في وتره من آخر حزبه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے سپارے کے آخری حصے کو وتر میں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 7063
٧٠٦٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة قال: قلت لإبراهيم أقرأ في وتري من آخر (حزبي) (١) ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ (رَبِّهِ) (٢)﴾ إلى آخر السورة قال: نعم إن شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا کہ میں اپنے وتروں میں اپنے سپارے کے آخر سے یعنی { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ } سے لے کر آخر تک تلاوت کرتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 7064
٧٠٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: أقرأ في الوتر (بالمعوذتين) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وتر میں معوذتین کی قراءت کرو۔
حدیث نمبر: 7065
٧٠٦٥ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: وددت (أني) (١) أن أقدر أن أوتر بالبقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے وتروں میں سورة البقرۃ پڑھنے کی توفیق ہوجائے۔
حدیث نمبر: 7066
٧٠٦٦ - حدثنا وكيع عن محل عن إبراهيم قال: أقرأ في الركعتين الأوليين من الوتر (بسورتين) (١) وفي الآخرة: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وتر کی پہلی دو رکعتوں میں کوئی سی دوسورتیں پڑھو، اور آخری رکعت میں { آمَنَ الرَّسُولُ } اور سورة الاخلاص کی تلاوت کرو۔
حدیث نمبر: 7067
٧٠٦٧ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عبيدة قال: حدثني أبي عن الأعمش عن طلحة عن (ذر) (٢) عن سعيد بن عبد الرحمن بن (أبزى) (٣) عن أبيه عن أُبيّ بن كعب (أن) (٤) النبي ﷺ كان يوتر بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، ويقول في آخر صلاته: سبحان الملك القدوس (ثلاثًا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں میں سورة الاعلیٰ ، سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرماتے اور نماز کے آخر میں تین مرتبہ یہ کلمات کہتے ” سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ “