کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
حدیث نمبر: 7025
٧٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن عبد الحكيم عن سعيد بن المسيب قال: (سن) (١) رسول اللَّه ﷺ الوتر كما (سن) (٢) الفطر والأضحى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتروں کو عید الفطر اور عیدا لاضحی کی نمازوں کی طرح سنت قراردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7025، ترقيم محمد عوامة 6918)
حدیث نمبر: 7026
٧٠٢٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: قال علي: الوتر ليس بحتم كالصلاة المكتوبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7026
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7026، ترقيم محمد عوامة 6919)
حدیث نمبر: 7027
٧٠٢٧ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن مجاهد قال: الوتر سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7027
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7027، ترقيم محمد عوامة 6920)
حدیث نمبر: 7028
٧٠٢٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن مسلم مولى (لعبد) (١) القيس قال: قال رجل لابن عمر: أرايت الوتر سنة (هو) (٢)؟ قال: فقال: ما سنة، أوتر رسول اللَّه ﷺ وأوتر المسلمون [قال: لا، أسنة هو؟ فقال: مه، (أتعقل) (٣)؟ أوتر رسول اللَّه ﷺ وأوتر المسلمون] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم مولی عبد القیس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ آپ کے خیال میں وتر سنت ہیں یا کچھ اور ؟ انہوں نے فرمایا کہ سنت کیا ہوتی ہے ؟ اللہ کے رسول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں ! اس آدمی نے کہا کہ نہیں، یہ سنت ہیں یا نہیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رک جاؤ، کیا تم سمجھتے نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل اسلام نے وتر پڑھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7028
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٤٨٣٤)، ومالك في الموطأ (١/ ١٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7028، ترقيم محمد عوامة 6921)
حدیث نمبر: 7029
٧٠٢٩ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن حجاج عن أبي إسحاق عن عاصم عن علي قال: قيل له: الوتر فريضة هي؟ فقال: قد أوتر النبي ﷺ وثبت عليه المسلمون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا وتر پڑھنا فرض ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7029
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7029، ترقيم محمد عوامة 6922)
حدیث نمبر: 7030
٧٠٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد أن محمد بن يحيى بن (حبان) (١) (أخبره) (٢) (أن) (٣) [ابن محيريز (القرشي) (٤) (٥) أخبره عن المخدجي رجل ⦗٥٠١⦘ من بني كنانة أنه أخبره أن] (٦) رجلًا من الأنصار كان بالشام يكنى أبا محمد وكانت له صحبة كان يقول: الوتر واجب، فذكر (المخدجي) (٧) أنه راح إلى عبادة بن الصامت فذكر ذلك له فقال عبادة: كذب أبو محمد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "خمس صلوات كتبهن اللَّه على العباد من جاء بهن لم (٨) يضيع من حقهن شيئًا جاء وله عند اللَّه عهد (أن يدخله اللَّه الجنة) (٩) ومن (انتقم) (١٠) من حقهن شيئا جاء (وليس) (١١) له عند اللَّه عهد إن شاء عذبه وإن شاء أدخله الجنة" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنو کنانہ کے ایک شخص جن کا نام مخدجی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ شام میں موجود ایک انصاری صحابی ابو محمد فرمایا کرتے تھے کہ وتر واجب ہیں۔ مخدجی فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد جھوٹ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جس شخص نے ان نمازوں کو اس طرح ادا کیا کہ ان کے حق میں کمی نہ کی تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں د اخل کرے۔ جس نے ان نمازوں کے حق میں کمی کی اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7030
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7030، ترقيم محمد عوامة 6923)
حدیث نمبر: 7031
٧٠٣١ - حدثنا محمد بن فضيل عن مطرف عن (عامر) (١) أنه سئل عن رجل ينسى الوتر قال: لا يضره كأنما هو فريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو وتر پڑھنا بھول جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں بھول جانے کا نقصان فرض نماز کو بھولنے کی طرح نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7031
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7031، ترقيم محمد عوامة 6924)
حدیث نمبر: 7032
٧٠٣٢ - حدثنا سهل بن يوسف عن (عمرو) (١) عن الحسن أنه كان لا يرى الوتر فريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن وتروں کو فرض نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7032
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7032، ترقيم محمد عوامة 6925)
حدیث نمبر: 7033
٧٠٣٣ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل) (١) عن جابر عن عطاء ومحمد بن علي قالا: الأضحى والوتر سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیدالاضحی اور وتر سنت ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7033
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7033، ترقيم محمد عوامة 6926)
حدیث نمبر: 7034
٧٠٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم عن علي قال: الوتر ليس بحتم ولكنه (سنة) (١) (سنّها) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نہیں ہیں۔ بلکہ یہ سنت ہیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنت قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7034
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق، أخرجه أحمد (٦٥٢)، والترمذي (٤٥٤)، والبيهقي (٢/ ٤٦٧)، والطيالسي (٨٩) وعبد الرزاق (٤٥٦٩)، وأبو يعلى (٣١٧)، وعبد بن حميد (٧٠)، وابن ماجه (١١٦٩)، والنسائي (٣/ ٢٢٨)، والحاكم (١/ ٣٠٠)، وابن خزيمة (١٠٦٧)، والدارمي (١٥٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7034، ترقيم محمد عوامة 6927)