حدیث نمبر: 6917
٦٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام بن سليم عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ اور اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6918
٦٩١٨ - [(وحدثنا) (١) شريك (عن) (٢) أبي إسحاق عن الحارث عن علي] (٣) ⦗٤٧٨⦘ قال: كان رسول اللَّه ﷺ يوتر عند الأذان ويصلي الركعتين مع الإقامة (٤). - زاد سلام: الأذان الأول، - قال سلام: وسمعت أبا إسحاق مرة قال: يوتر عند طلوع الفجر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ اور اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ حضرت سلام کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پہلی اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ حضرت سلام کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابواسحاق کو کہتے سنا ہے کہ آپ طلوع فجر کے وقت وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6919
٦٩١٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا خالد (الحذاء) (١) عن أبي قلابة قال: (قال) (٢) أبو الدرداء: ربما أوترت [(وإن) (٣) الإمام لصاف في صلاة الصبح (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں وتر پڑھتا ہوں اور امام صبح کی نماز کے لئے صف بنارہا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6920
٦٩٢٠ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: جاء رجل إلى ابن مسعود قال: أوتر] (١) والمؤذن يقيم قال: نعم فأوتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا میں مؤذن کی اقامت کے وقت وتر پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں تم اس وقت وتر پڑھ سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 6921
٦٩٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن (١) عاصم عن أبي مجلز قال: كان ابن عباس يوتر عند الإقامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اقامت کے وقت وتر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6922
٦٩٢٢ - حدثنا هشيم عن حصين قال: حدثنا أبو (ظبيان) (١) قال: كان علي ⦗٤٧٩⦘ يخرج إلينا ونحن ننتظر (تباشير) (٢) الصبح فيقول: الصلاة (الصلاة) (٣) نعم ساعة الوتر هذه فإذا طلع الفجر صلى ركعتين ثم أقيمت الصلاة فصلى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تھے اور ہم صبح کی کرنیں دیکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ کہتے نماز ، نماز، یہ نماز کا کتنا اچھا وقت ہے۔ جب فجر طلوع ہوجاتی تو وہ دو رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کھڑی ہوجاتی اور وہ نماز پڑھتے۔
حدیث نمبر: 6923
٦٩٢٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن يحيى بن وثاب عن مسروق قال: سألت عائشة عن وتر رسول اللَّه ﷺ فقالت: كل (الليل) (١) قد أوتر رسول اللَّه (ﷺ) (٢) أوله وأوسطه فانتهى وتره حين مات في السحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتروں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ ابتدائی حصہ میں بھی اور درمیانی حصہ میں بھی۔ آپ نے وصال سے پہلے سحری کے وقت وتر کی نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 6924
٦٩٢٤ - (حدثنا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ (٢) مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 6925
٦٩٢٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق (عن علقمة) (١) قال: صليت مع (عبد اللَّه) (٢) ليلة كلها فكان يرفع صوته يقرأ قراءة يسمع أهل المسجد ⦗٤٨٠⦘ يرتل ولا يرجع حتى إذا كان قبل أن يطلع الفجر بمقدار ما بين (أذان) (٣) المغرب إلى الانصراف منها أوتر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے ساتھ رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ آپ اپنی آواز کو قراءت میں اتنا بلند کرتے کہ مسجد میں موجود سب لوگ سن سکتے تھے۔ آپ ترتیل سے پڑھتے تھے اور قراءت کو دہرا دہرا کر نہیں پڑھتے تھے۔ آپ فجر کے طلوع ہونے سے پہلے مغرب کی اذان سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے وقت کے برابر وتر کی نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6926
٦٩٢٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن جامع بن شداد عن (الأسود) (١) ابن هلال عن عبد اللَّه قال: الوتر ما بين الصلاتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ وتر دو نمازوں کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 6927
٦٩٢٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا ابن عون عن الشعبي قال: قلت أي ساعة أحب إليك أن أوتر؟ قال: إذا (نعب) (١) المؤذنون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ وتر پڑھنے کا سب سے بہتر وقت کون سا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب اذان دینے والے اذان کے دوران گردن کو لمبا کریں اور سر کو حرکت دیں۔
حدیث نمبر: 6928
٦٩٢٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: سألت (١) عبيدة عن الرجل يستيقظ عند الإقامة قال: يوتر. حدثنا ابن فضيل عن بيان عن (وبرة) (٢) قال: (جاء) (٣) ابن عمر مع الفجر (فأوتر) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اقامت کے وقت بیدار ہو، کیا وہ وتر پڑھ لے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ اس وقت وتر پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 6929
٦٩٢٩ - حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) مطرف عن أبي إسحاق عن بعض أصحاب علي قال: قال علي من كل الليل قد أوتر رسول اللَّه ﷺ من أوله (وأوسطه ⦗٤٨١⦘ وآخره) (٢) ولكن ثبت الوتر لرسول اللَّه ﷺ من آخر الليل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں، ابتداء میں، درمیان اور اختتام کے موقع پر وتر ادا کئے ہیں۔ البتہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے زیادہ وتر رات کے آخری حصہ میں ادا فرمائے ہیں۔
حدیث نمبر: 6930
٦٩٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب (عن أبيه) (١) عن ابن عباس أنه كان يوتر إذا بقي من الليل مثل ما ذهب منه إلى صلاة المغرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رات کو اس وقت وتر پڑھتے جب رات کا اتنا حصہ باقی رہ جاتا جتنا حصہ مغرب کی نماز سے اب تک گذرا ہوتا۔
حدیث نمبر: 6931
٦٩٣١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن عمرو بن شرحبيل قال: سئل عبد اللَّه عن الوتر بعد الأذان فقال: نعم وبعد الإقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ سے اذان کے بعد وتر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں اذان کے بعد اور اقامت کے بعد بھی وتر پڑھے جاسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6932
٦٩٣٢ - حدثنا وكيع عن (إسماعيل) (١) عن حكيم بن جابر أن أبا ميسرةكان يؤم قومه فأبطأ عليهم فقال: إني كنت أوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، ایک مرتبہ انہیں دیر ہوگئی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں وتر پڑھ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 6933
٦٩٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام الدستوائي عن حماد عن إبراهيم عن أبي عبد اللَّه الجدلي عن أبي مسعود قال: (من كل الليل) (١) (قد) (٢) أوتر رسول اللَّه ﷺ (٣) من أوله وأوسطه وآخره فانتهى وتره إلى السحر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ ابتدائی حصہ میں بھی ، درمیانی حصہ میں بھی اور آخری حصہ میں بھی۔ آپ نے وصال سے پہلے سحری کے وقت وتر کی نماز پڑھی ہے۔