کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت بنالے، پھر باقی نماز دو دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے
حدیث نمبر: 6891
٦٨٩١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أبي مجلز عن ابن عباس أنه كان يقول: إذا أوتر الرجل من أول الليل ثم قام من آخر الليل فليشفع وتره بركعة، ثم ليصل ثم ليوتر آخر صلاته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی رات کے شروع میں وتر پڑھ لے پھر رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو تو وتر کے ساتھ ایک رکعت ملائے، پھر نماز پڑھے اور پھر نماز کے آخر میں وتر پڑھے۔
حدیث نمبر: 6892
٦٨٩٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن الشعبي عن ابن عمر أنه كان يفعل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6893
٦٨٩٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا الشيباني عن أبي قيس عن عمرو بن ميمون أنه كان يقول ذلك أيضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6894
٦٨٩٤ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز أن أسامة بن زيد ⦗٤٧٣⦘ وابن عباس قالا: إذا أوترت من أول الليل ثم قمت تصلي فصل ما بدا لك (و) (٢) اشفع بركعة ثم أوتر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جب تم رات کے ابتدائی حصہ میں اٹھ کر نماز پڑھو تو جتنی چاہو نماز پڑھو اور جفت تعداد میں پڑھو۔ پھر تم ایک رکعت وتر کی ملاؤ۔
حدیث نمبر: 6895
٦٨٩٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (هشام) (١) عن أبيه أنه كان يوتر أول الليل فإذا قام شفع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھا کرتے تھے پھر جب وہ رات کو اٹھتے تو جفت رکعات پڑھتے۔
حدیث نمبر: 6896
٦٨٩٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان وشعبة عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة عن عثمان أنه كان يشفع بركعة ويقول: ما (أشبهها) (١) إلا (بالغريبة) (٢) من الإبل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ایک رکعت کے ساتھ ایک رکعت ملاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں انہیں عجیب اونٹوں کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6897
٦٨٩٧ - (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا سفيان عن أبي قيس الأودي (٢) عبد الرحمن بن (ثروان) (٣) قال: سألت عمرو بن ميمون عن الرجل يوتر (ثم يستيقظ) (٤) قال: يشفع بركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس اودی عبد الرحمن بن ثروان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن میمون سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو رات کو وتر پڑھے اور پھر بیدار ہو تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک رکعت ساتھ ملائے۔
حدیث نمبر: 6898
٦٨٩٨ - حدثنا معتمر عن برد عن مكحول قال: إذا (أوتر) (١) ثم قام يصلي ⦗٤٧٤⦘ (صلى) (٢) شفعًا، شفعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی وتر پڑھنے کے بعد نماز پڑھے تو وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔