٦٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز أنه كان لا يصلي بعد الوتر إلا ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز وترکے بعد صرف دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٦٨٨٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن القاسم أنه سئل عن الركعتين بعد الوتر فحلف باللَّه إنهما لبدعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے وتر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔
٦٨٨٤ - حدثنا معتمر عن أبيه قال: (سأل) (١) رجل من أهل اليمن عنهما عطاء فقال: أنتم (تفعلونها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک یمنی شخص نے حضرت عطاء سے وتر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم ایسا کرتے ہو ؟
٦٨٨٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي (حمزة) (١) عن ابن عباس قال: إن استطعت أن لا تصلي صلاة إلا سجدت بعدها سجدتين فافعل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر تم کوئی بھی فرض نماز پڑھنے کے بعد دو سجدے کرسکو تو ضرور کرلو۔
٦٨٨٦ - حدثنا وكيع عن ابن أبي عروبة عن أبي العالية (١) البرّاء عن ابن عباس قال: رأيته يسجد بعد وتره سجدتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ براء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وتر کے بعد دوسجدے کرتے دیکھا ہے۔
٦٨٨٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (عون) (١) بن صالح البارقي عن عطية العوفي عن أبي سعيد الخدري أنه كره الصلاة بعد الوتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ عوفی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نے وتر کے بعد نماز کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٦٨٨٨ - حدثنا سهل بن يوسف عن التيمي عن أبي مجلز عن قيس بن عباد قال: [لأن أقعد بعد الوتر فأقرأ أحب إلي من صلاة بعد الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد کہتے ہیں کہ وتر کے بعد بیٹھ کر نماز پڑھنا میرے نزدیک وتر کے بعد نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
٦٨٨٩ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) (سفيان عن) (٢) (سليمان) (٣) التيمي عن أبي (مجلز) (٤) عن قيس بن عباد قال] (٥): إذا أوترت ثم قمت فاقرأ وأنت جالس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ جب تم رات کو سونے سے پہلے وتر پڑھ لو، پھر اگر دوبارہ رات کو اٹھو تو بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرلو۔
٦٨٩٠ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ليث عن مجاهد أنه سئل عن السجدتين بعد الوتر فقال: هذا شيء قد ترك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے وتر کے بعد دوسجدوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ چیز چھوڑ دی گئی ہے۔