کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ملاحوں کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 6741
٦٧٤١ - حدثنا هشيم عن أيوب أبي العلاء قال: سمعت عطاء وسئل عن ملاح يكون في سفينة ومعه فيها (أهله) (١) وهي منزله يسافر فيها قال: (يصلي) (٢) فيها أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی ملاح کشتی میں ہو اور اس کے ساتھ اس کے بیوی بچے بھی ہوں اور وہ کشتی ہی اس کا گھر ہو تو وہ کتنی رکعتیں پڑھے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6741
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6741، ترقيم محمد عوامة 6641)
حدیث نمبر: 6742
٦٧٤٢ - حدثنا حفص عن إسماعيل قال: سئل الحسن عن الملاحين يكونون في السفينة في أهاليهم يتمون الصلاة قال: نعم هي منازلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کچھ لوگ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشتیوں میں رہتے ہوں تو کیا وہ پوری نماز پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، یہ کشتیاں ہی ان کے گھر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6742
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6742، ترقيم محمد عوامة 6642)
حدیث نمبر: 6743
٦٧٤٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن (دغفل) (١) قال: سألت عطاء عن الصلاة في السفينة فقال: هم مطمئنون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کشتی والوں کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اطمینان سے رہتے ہیں اس لئے پوری نماز پڑھیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6743
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6743، ترقيم محمد عوامة 6643)