حدیث نمبر: 6725
٦٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن حميد قال: سئل أنس عن الصلاة في السفينة فقال عبد اللَّه بن أبي عتبة (مولى) (١) أنس وهو معنا جالس: سافرت مع أبي سعيد الخدري وأبي الدرداء وجابر بن عبد اللَّه قال: حميد وأناس قد سماهم فكان إمامنا يصلي بنا (٢) في السفينة قائمًا و (٣) نصلي (خلفه) (٤) قيامًا ولو شئنا لأرفأنا وخرجنا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت انس کے مولی عبد اللہ بن ابی عتبہ جو کہ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے (حضرت حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ دوسرے لوگوں کا بھی ذکر کیا) ہمارا امام ہمیں کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھاتا تھا اور ہم اس کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے، بعض اوقات اگر کشتی ساحل کے قریب ہوتی تو ہم ساحل پر اتر کر نماز پڑھ لیتے۔
حدیث نمبر: 6726
٦٧٢٦ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن عبد اللَّه بن مسلم بن يسار عن أبيه أن أباه كان ينصب علمًا في السفينة يصلي قائمًا وإنها لمرفوعة (شراعها) (١) تجري (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ ان کے والد کشتی میں ایک جھنڈا لگاتے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، کشتی اپنے بادبان سے چلتی رہتی تھی۔
حدیث نمبر: 6727
٦٧٢٧ - حدثنا حفص عن عاصم عن الشعبي والحسن وابن سيرين قالوا: صل في السفينة قائمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی، حضرت ابن سیرین اور حسن فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ لو۔ حسن فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھیوں کے لئے تکلیف کا سامان مت کرو۔
حدیث نمبر: 6728
٦٧٢٨ - وقال الحسن: لا (تشق) (١) على أصحابك.
حدیث نمبر: 6729
٦٧٢٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين أنه قال: في الصلاة في (السفينة) (١) إن شئت قائمًا وإن شئت قاعدًا والقيام أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ کشتی میں اگر چاہو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھ لو اور چاہو تو بیٹھ کر، البتہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 6730
٦٧٣٠ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب أنه قال: (يصلي) (١) في السفينة قائمًا فإن لم يستطع فقاعدًا واسجد على قرار منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لو اور کشتی کے تختے پر سجدہ کرو۔
حدیث نمبر: 6731
٦٧٣١ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن الشعبي قال: صل فيها قائمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 6732
٦٧٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: صل في السفينة قائمًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 6733
٦٧٣٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن الصلاة في السفينة فقال: إن (استطاع) (١) أن يخرج فليخرج وإلا فليصل قائمًا (فإن) (٢) استطاع ⦗٤٣٧⦘ وإلا فليصل قاعدًا ويستقبل القبلة (كلما تحرفت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کشتی میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کشتی سے باہر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو تو باہر نماز پڑھے، وگرنہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے۔ البتہ جب کبھی کشتی کا رخ قبلے سے تبدیل ہو تو یہ اپنے رخ کو بھی پھیر لے۔
حدیث نمبر: 6734
٦٧٣٤ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: يصلي فيها قائما فإن لم يستطع فقاعدًا وإن استطاع أن يخرج إلى (الجد) (٢) فليخرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے، اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے۔ اگر کنارے پر جاکر نماز پڑھنے کی طاقت ہو تو باہر جاکر نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 6735
٦٧٣٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن بن صالح عن مطرف عن عامر قال: ينصب علمًا في السفينة ثم يتبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ وہ کشتی میں ایک جھنڈا کھڑا کرکے اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 6736
٦٧٣٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا العلاء بن قيس الكاهلي قال: سألت عطاء عن الصلاة في السفينة فقال: لا تصلوا فيها ما وجدتم (جدًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس کاہلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کشتی میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک تمہیں ساحل نہ ملے نماز نہ پڑھو۔