کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ آدمی کی نگاہ سجدے کی جگہ ہو
حدیث نمبر: 6661
٦٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن عاصم عن أبي قلابة قال: سألت مسلم بن يسار: أين (منتهى) (١) البصر في الصلاة؟ فقال: إن حيث (تسجد حسن) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مسلم بن یسار سے سوال کیا کہ نماز میں آدمی کی نگاہ کہاں ہونی چاہئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جہاں تم سجدہ کرتے ہو وہاں نگاہ رکھنا اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 6662
٦٦٦٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا العوام عن إبراهيم النخعي أنه كان يحب للمصلي أن لا يجاوز بصره موضع سجوده.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نخعی نماز کے لئے اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ اس کی نگاہ سجدے کی جگہ سے آگے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6663
٦٦٦٣ - حدثنا هشيم عن أبي (حرة) (١) عن ابن سيرين أنه كان يحب أن يضع الرجل بصره حذاء موضع سجوده فإن لم يفعل -أو كلمة نحوها- فليغمض عينيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ آدمی اپنی نگاہوں کو سجدے کی جگہ رکھے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے چاہئے کہ اپنی آنکھیں بند رکھے۔