کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مغرب کے بعد کی دو رکعتوں کو موخر کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6530
٦٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن ⦗٣٩٢⦘ ميمون بن مهران قال: صلى حذيفة المغرب في جماعة فلما سلّم الإمام (قام) (١) رجل إلى جنبه فأراد أن يصلي الركعتين فجذبه حذيفة (فقال) (٢): اجلس لا عليك أن تؤخّر هاتين الركعتين انتظر قليلًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ جب امام نے سلام پھیرا تو ان کے ساتھ نماز پڑھنے والا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے دو سنتیں پڑھنے کا ارادہ کیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھینچا اور بیٹھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم ان دو رکعتوں کو تھوڑا تاخیر سے پڑھ لو تو کوئی حرج نہیں، ذرا انتظار کرلو۔
حدیث نمبر: 6531
٦٥٣١ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن ميمون قال كانوا يحبون تأخير الركعتين بعد المغرب حتى تشتبك (١) النجوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ اسلاف مغرب کے بعد کی دو رکعتوں کو اتنا مؤخر کرنا کہ ستارے نظر آنے لگیں، مستحب سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6532
٦٥٣٢ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان رجاء بن (حيوة) (١) إذا صلى المغرب لم يصل بعدها شيئًا حتى يغيب الشفق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ حضرت رجاء بن حیوہ مغرب کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد شفق کے غائب ہونے کے بعد کوئی نماز نہ پڑھتے تھے۔