٦٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء ⦗٣٧٨⦘ عن عبيد بن عمير عن عائشة قالت: ما رأيت رسول اللَّه ﷺ يسرع إلى شيء من النوا فل (مثل) (١) إسراعه إلى (ركعتي) (٢) الفجر (ولا) (٣) إلى (غنيمة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نوافل کی کسی نماز کے لئے اتنی جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ فجر کی دو سنتوں کے لئے فرمایا کرتے تھے۔
٦٤٧٤ - حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن زيد عن عبد ربه قال: سمعت أبا هريرة يقول: لا تدع ركعتي الفجر ولو طرقتك الخيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑو خواہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔
٦٤٧٥ - حدثنا هشيم عن يعلي بن عطاء عن الوليد بن عبد الرحمن عن ابن عمر أنه قال: (يا حمران) (١) لا تدع ركعتين قبل الفجر فإن (فيهما) (٢) الرغائب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے حمران ! فجر سے پہلے کی دو سنتوں کونہ چھوڑنا کیونکہ یہ ان اعمال میں سے ہیں جن کا بہت زیادہ ثواب ہے۔
٦٤٧٦ - حدثنا هشيم عن أبي (بشر) (١) عن سعيد بن جبير قال: قال عمر: في الركعتين قبل الفجر: هما أحب إليّ من حُمرِ النَّعَم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ فجر سے پہلے کی دو سنتیں مجھے بہترین خوبصورت اونٹوں سے زیادہ محبوب ہیں۔
٦٤٧٧ - حدثنا (هشيم) (١) قال: (أنا) (٢) حصين قال: سمعت (عمرو) (٣) بن ميمون يقول: كانوا لا يتركون أربعًا قبل الظهر وركعتين قبل الفجر على حال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ اسلاف ظہر سے پہلے کی چار اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔
٦٤٧٨ - حدثنا (كثير بن هشام) (١) عن جعفر بن برقان قال: بلغني أن عائشة كانت تقول: حافظوا على ركعتي الفجر فإن فيهما الخير والرغائب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی پابندی کرو کیونکہ ان میں خیر اور ثواب ہے۔
٦٤٧٩ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (صلاهما) (١) أو أحدهما ثم مات أجزأه من ركعتي الفجر] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فجر کی دو سنتیں یا ان میں سے ایک پڑھ کر انتقال کرجائے تو اس کی فجر کی نماز ہوگئی۔
٦٤٨٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زياد بن فياض عن أبي عبد الرحمن قال: إذا صلى ركعتي الفجر ثم مات فكأنما صلى الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ جس شخص نے فجر کی دوسنتیں پڑھیں پھر وہ مرگیا تو اس کی فجر کی نماز ہوگئی۔
٦٤٨١ - حدثنا معاذ عن أشعث قال: كان الحسن يرى الركعتين قبل الفجر واجبتين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فجر سے پہلے کی دوسنتوں کو واجب قرار دیتے تھے۔
٦٤٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن (سعد) (١) ابن (هشام) (٢) عن عائشة قالت (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: "ركعتا الفجر خير من الدنيا" (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی دوسنتیں دنیا اور جو کچھ دنیامیں ہے سب سے بہتر ہیں۔