حدیث نمبر: 6466
٦٤٦٦ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن تميم بن طرفة عن جابر بن (٢) سمرة قال: قال النبي ﷺ: "لَيَنْتِهَيَنَّ أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة أوْ لَا تَرجِع إليهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو چاہئے کہ نماز میں آسمان کی طرف نظریں اٹھانے سے باز آجائیں ورنہ ہوسکتا ہے کہ ان کی نگاہ واپس نہ آئے۔
حدیث نمبر: 6467
٦٤٦٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال: "ما بال أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في صلاتهم"، فاشتد (في) (١) ⦗٣٧٦⦘ ذلك حتى (كان يقول) (٢): "لينتهين (عن ذلك) (٣) أو لَتُخطفن أبصارهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ نماز میں آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ آپ نے اس بارے میں شدید نکیر فرمائی ، یہاں تک کہ فرمایا کہ وہ ایسا کرنے سے باز آجائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بینائی سلب کرلی جائے۔
حدیث نمبر: 6468
٦٤٦٨ - حدثنا غندر عن (شعبة) (١) عن (عمار) (٢) (العبسي) (٣) قال: سمعت ابن (يسار) (٤) يقول: قال حذيفة: أما (يخشى) (٥) أحدكم إذا رفع بصره إلى السماء أن لا يرجع إليه بصره، يعني وهو في الصلاة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے والے کے بارے میں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کی بینائی سلب نہ کرلی جائے۔
حدیث نمبر: 6469
٦٤٦٩ - حدثنا وكيع عن (مسعر) (١) وسفيان عن زياد بن فياض عن تميم بن سلمة قال: قال عبد اللَّه: لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة أو لا ترجع إليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے والے ایسا کرنے سے باز آجائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بینائی سلب کرلی جائے۔
حدیث نمبر: 6470
٦٤٧٠ - حدثنا هشيم عن حصين عن إبراهيم عن عبد اللَّه أنه رأى رجلًا رافعًا بصره إلى السماء فقال عبد اللَّه: ما يدري (١) هذا، لعل بصره (سيلتمع) (٢) قبل (٣) ⦗٣٧٧⦘ أن يرجع إليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ نے ایک آدمی کو دیکھاجس نے نماز میں نگاہ آسمان کی طرف اٹھا رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا یہ جانتا ہے کہ اس کی بینائی واپس آنے سے پہلے ختم کی جاسکتی ہے ؟
حدیث نمبر: 6471
٦٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو معاوية عن الشيباني عن أبي بكر (ابن) (٢) عمرو بن عتبة عن شريح أنه رأى رجلًا قد (رفع) (٣) يده وبصره إلى السماء فقال: أكفف (يديك) (٤) وأخفض من بصرك فإنك لن تراه ولن تناله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے نماز میں اپنی نظر اور ہاتھ کو آسمان کی طرف اٹھا رکھا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو نیچے کرلو اور اپنی نگاہ کو جھکا لو کیونکہ تم نہ اسے دیکھ سکتے ہو اور نہ اسے پکڑ سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 6472
٦٤٧٢ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كان رسول اللَّه ﷺ مما ينظر إلى الشيء في الصلاة فيرفع بصره حتى نزلت آية (إن) (١) لم (تكن) (٢) هذه فلا أدري (ما هي) (٣) ﴿الَّذِينَ (هُمْ) (٤) فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [المؤمنون: ٢] قال: فوضع النبي ﷺ رأسه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں نگاہ اٹھا کے کسی چیز کو دیکھ لیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : { الَّذِینَ ہُمْ فِی صَلاَتِہِمْ خَاشِعُونَ } وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ اس کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کو جھکا لیا۔