کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ کپڑا جس کی بنائی اکھڑ رہی ہو اس میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6460
٦٤٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن الحكم بن عطية قال: سمعت الحسن وسئل عن الثوب يخرج من النساج يصلى فيه قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عطیہ فرماتے ہیں کہ حسن سے اس کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی بنائی ادھڑ رہی ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ اس میں نما ز پڑھنا جائز ہے۔ حضرت ابن سیرین نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 6461
٦٤٦١ - قال: (وسمعت) (١) ابن سيرين يكرهه (٢).
حدیث نمبر: 6462
٦٤٦٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ربيع عن الحسن قال: لا بأس بالصلاة في رداء (اليهودي والنصراني) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی کی چادر میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6463
٦٤٦٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا علي بن صالح عن عطاء أبي محمد قال: رأيت على عليّ قميصًا من هذه (الكرابيس) (١) غير غسيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سفید روئی کی بنی ہوئی ایک ان دھلی قمیص میں دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6464
٦٤٦٤ - حدثنا حفص عن جعفر (١) عن أبيه أن جابر بن عبد اللَّه صلّى في ثوب نسيج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ایک بنے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 6465
٦٤٦٥ - حدثنا أبو مالك (الجنبي) (١) عمرو بن هاشم عن عبد اللَّه (بن) (٢) عطاء قال: سألت أبا جعفر عن الثوب يحوكه اليهود والنصارى يصلي فيه قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سوال کیا کہ آدمی کسی ایسے کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جسے کسی یہودی یا نصرانی نے بنایا ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔