کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نئی اور پرانی مسجد کا بیان
حدیث نمبر: 6386
٦٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) هشيم قال: (أنا) (٢) عوف قال: قدم ⦗٣٥٦⦘ عامل لمعاوية وكان بعثه على الصدقات فنزل منزلًا فإذا هو بمسجدين قال: أيهما أقدم؟ فأخبر به فأتى الذي هو أقدمهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کا ایک عامل جنہیں انہوں نے زکوٰۃ کی وصول یابی کے لئے مقرر فرمایا تھا آئے انہوں نے دو مسجدوں کو دیکھا اور فرمایا کہ ان میں پرانی مسجد کون سی ہے ؟ انہیں بتایا گیا تو انہوں نے زیادہ پرانی مسجد میں نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6386
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6386، ترقيم محمد عوامة 6298)
حدیث نمبر: 6387
٦٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن ليث أن أبا وائل فاتته الصلاة في مسجد كذا وكذا (فصلى في مسجد كذا وكذا) (١) وبينهما مساجد كثيرة محدثة لم يصل فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث کہتے ہیں کہ فلاں مسجد میں حضرت ابو وائل کی نماز فوت ہوگئی تو انہوں نے فلاں مسجد میں ادا کی، حالانکہ ان دونوں مسجدوں کے درمیان کئی مسجدیں ایسی تھی جو نئی بنائی گئی تھیں، انہوں نے ان مسجدوں میں نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6387
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6387، ترقيم محمد عوامة 6299)
حدیث نمبر: 6388
٦٣٨٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عمارة الصيدلاني عن ثابت البناني قال: كنت أكون مع أنس (فيأتي) (١) على المسجد فيسمع الأذان فيقول محدث هذا فإذا قالوا: نعم، (تجاوزه) (٢) (إلي) (٣) غيره (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کبھی کسی مسجد کے پاس آتا وہ اس کی اذان سنتے اور پوچھتے کہ کیا یہ نئی مسجد ہے ؟ لوگ کہتے جی ہاں۔ اس پر وہ اس مسجد سے آگے کسی اور مسجد کی تلاش میں چلے جاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6388
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمارة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6388، ترقيم محمد عوامة 6300)
حدیث نمبر: 6389
٦٣٨٩ - حدثنا معتمر (عن ليث) (١) عن مجاهد أنه (كان) (٢) يتجاوز المساجد المحدثة إلى القديمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نئی مسجدوں کو چھوڑ کر پرانی مسجدوں میں جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6389
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6389، ترقيم محمد عوامة 6301)
حدیث نمبر: 6390
٦٣٩٠ - حدثنا (معتمر) (١) (٢) عن عوف قال: (أخبرني) (٣) رجل من أهل ⦗٣٥٧⦘ البادية قال: قدم علينا مصدق من المدينة ليالي معاوية (فبينما) (٤) هو على (ماء لنا) (٥) ذات يوم قال: وحضرت الصلاة (قال) (٦): وعلى الماء مسجدان من مساجد أهل البادية قال: أيهما بني (أولًا) (٧) فقيل: هذا، فقصد نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ مجھے ایک دیہاتی شخص نے بتایا کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ان کا نمائندہ ہمارے پاس آیا۔ ایک دن وہ ہمارے چشمے پر بیٹھا تھا کہ نماز کا وقت ہوگیا۔ اس وقت اس چشمے پر دیہات والوں کی بہت سی مساجد تھیں۔ اس نے پوچھا کہ ان میں سے کون سی مسجد سب سے پہلے بنی ہے ؟ اسے بتایا گیا تو وہ اسی مسجد میں چلا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6390، ترقيم محمد عوامة 6302)
حدیث نمبر: 6391
٦٣٩١ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) منصور عن الحسن أنه سئل عن الرجل (٢) يدع مسجد قومه ويأتي غيره قال: فقال الحسن: كانوا يحبون أن يكثر الرجل قومه بنفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی قوم کی مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کو اپنے وجود سے زیادہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6391، ترقيم محمد عوامة 6303)