کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا آدمی صرف عورتوں کی امامت کرا سکتا ہے
حدیث نمبر: 6290
٦٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) أبو معاوية وعبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه أنه كان يؤم نساءه في المكتوبة ليس معهن رجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عروہ عورتوں کو فرض نماز کی امامت کرایا کرتے تھے اور ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6290
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6290، ترقيم محمد عوامة 6204)
حدیث نمبر: 6291
٦٢٩١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام عن أبيه، قال: جعل عمر بن الخطاب للناس قارئين في رمضان فكان أبي يصلي بالناس وابن أبي (حثمة) (١) يصلي بالنساء (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رمضان میں لوگوں کے لئے قاریوں کو مقرر فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابی لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے اور حضرت ابن ابی حثمہ عورتوں کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6291
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6291، ترقيم محمد عوامة 6205)
حدیث نمبر: 6292
٦٢٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن غالب (أبي) (١) الهذيل عن إبراهيم قال: كنت (أصلي) (٢) في الحي في زمن الحجاج وما خلفي إلا امرأة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں حجاج کے زمانے میں اپنے محلے میں نماز پڑھاتا تھا اور میرے پیچھے صرف ایک عورت ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6292
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6292، ترقيم محمد عوامة 6206)
حدیث نمبر: 6293
٦٢٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر، قال: سألت الشعبي وعطاء عن رجل يؤم النساء ليس معهن رجل، (فقالا) (١): لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی اور حضرت عطاء سے سوال کیا کہ کیا آدمی عورتوں کو نماز پڑھا سکتا ہے جن کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو ؟ دونوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6293
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6293، ترقيم محمد عوامة 6207)
حدیث نمبر: 6294
٦٢٩٤ - حدثنا مروان بن معاوية عن عمر بن عبد اللَّه الثقفي، قال: حدثنا عرفجة (قال: كان علي يأمر الناس بقيام رمضان، وكان يجعل للرجال إمامًا ⦗٣٣٥⦘ وللنساء إمامًا قال: عرفجة) (١) (فأمرني علي) (٢) فكنت إمام النساء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عرفجہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو رمضان کے قیام کا حکم دیا کرتے تھے۔ وہ مردوں کے لئے الگ اور عورتوں کے لئے الگ امام مقرر کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے عورتوں کا امام مقرر کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6294
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمر بن عبد اللَّه الثقفي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6294، ترقيم محمد عوامة 6208)
حدیث نمبر: 6295
٦٢٩٥ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن، قال: سئل عن الرجل (١) (يؤم) (٢) النسوة في رمضان قال: كان لا يرى به بأسًا إذا كان الرجل لا بأس به، قال: وإن كان الرجل ليخرج فتفوته الصلاة في جماعة فيرجع إلى أهله فيجمعهم فيصلي بهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ آدمی رمضان میں کیا صرف عورتوں کو نماز پڑھا سکتا ہے ؟ حسن نے فرمایا کہ اگر اس آدمی میں کوئی خرابی نہ ہو تو اس عمل میں کوئی خرابی نہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر کسی آدمی کی جماعت کی نماز چھوٹ جائے تو وہ گھر آ کر گھر کی خواتین کو نماز پڑھا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6295
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6295، ترقيم محمد عوامة 6209)
حدیث نمبر: 6296
٦٢٩٦ - حدثنا زيد بن حباب عن مطهر بن جويرية، قال: رأيت أبا مجلز وله مسجد في داره فربما جمع بأهله وغلمانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطہر بن جویریہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز کے گھر میں ایک مسجد تھی وہ اس میں اپنے گھر والوں اور غلاموں کو جمع کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6296
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6296، ترقيم محمد عوامة 6210)