کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر آدمی کے پیچھے کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو لیکن امام کے اور اس کے درمیان دیوار ہو تو کیا حکم ہے؟
❮
❯
٦٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) حفص بن غياث (عن ليث) (٢) (عن نعيم) (٣) قال: قال عمر: إذا كان بينه وبين الإمام طريق أو نهر أو حائط فليس معه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر امام اور مقتدی کے درمیان راستہ، دریا یا دیوار ہو تو وہ اس کے ساتھ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6297
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف، ونعيم لا يروي عن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6297، ترقيم محمد عوامة 6211)
٦٢٩٨ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم أنه كان يكره أن يصلي بصلاة الإمام إذا كان (بينهما) (١) طريق أو نساء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ کوئی شخص امام کے پیچھے اس طرح نماز پڑھے کہ دونوں کے درمیان راستہ یا عورتیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6298
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6298، ترقيم محمد عوامة 6212)
٦٢٩٩ - حدثنا ابن مهدي عن إسرائيل عن عيسى بن (أبي) (١) عزة عن الشعبي قال: سألته عن المرأة تأتم بالإمام وبينهما طريق، فقال: ليس ذلك لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ کیا عورت ایسے امام کی اقتداء کرسکتی ہے جس کے اور اس عورت کے درمیان راستہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ درست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6299
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6299، ترقيم محمد عوامة 6213)